حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 167

۱۶۷ حقائق الفرقان سُورَةُ الْإِنْقِطَارِ اس آیت میں كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ له (الرحمن : ۲۸،۲۷) اور ایسا ہی ایک دوسری آیت میں فرمایا۔لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المومن : ۱۷) یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قہری تجلی سے ہر ایک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانگت کو دکھلائے گا۔اس سورۃ شریفہ میں بھی آخر یہی فرمایا ہے۔وَالْأَمْرُ يَوْمَبِذٍ لِلهِ (الانفطار : ۲۰) یہ اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے جو لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المومن: ۱۷) میں ادا کیا گیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی قہری تجلی نمودار ہو گی۔اور فنا کا زبردست ہاتھ اپنا اثر دکھائے گا۔اور آسمانی اجرام میں ایک انقلاب واقع ہو گا۔ان آیات کو واقعات پر اگر مبنی قرار دیا جاوے تو بھی درست ہے کہ جب آسمان پھٹ جاوے گا۔تو ستاروں کا گر پڑنا یقینی امر ہے۔اور ستارں اور سمندروں کے تعلقات میں جو کشش کام کر رہی ہے جب اس میں فرق آ جائے گا۔تو سمندروں کا اپنی حدوں سے نکل جانا بھی مسلم امر ہے۔آجکل کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے کہ زمین سکڑتی جاتی ہے اور سمندر اپنے کناروں سے بڑھا چلا آتا ہے۔یہ آثار ان آیات کے مضامین کی صداقت کی دلیل ہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۶ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۲) ۲ تا ۵ - اِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجْرَتُ - وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَت - ترجمہ۔جب آسمان پھٹ جائے۔اور ستارے جھڑ جائیں۔۴۔اور جب دریا بہادیئے جائیں۔اور جب قبریں اکھاڑ دی جائیں۔تفسیر فطرت کو دوسری جگہ انشقت فرمایا ہے۔جدید تحقیقات میں آسمان کو لطیف چیز قرار دیا ہے۔لطیف ہی سہی۔لطیف پر بھی شق کا لفظ بولا جاتا ہے۔جیسے بادل پھٹ گیا وغیرہ۔بڑی بھاری مصیبت کے وقت بھی عرفا کہتے ہیں کہ آسمان پھٹ پڑا۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے لے ہر ایک جو اس پر ہے فنا ہونے والا ہے۔اور باقی رہے گی ذات تیرے رب کی جو جلال اور بزرگی والی ہے۔اور اس دن اللہ ہی اللہ کا حکم ہے۔سے آج کس کی بادشاہی ہے؟ ( ندا ہو گی ) اکیلے اللہ کی جو بڑا زبردست ہے۔