حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 166

حقائق الفرقان ۱۶۶ سُورَةُ الْإِنْقِطَارِ سُوْرَةُ الْإِنْفِطَارِ مَكِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ انفطار کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔۲- إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ - ترجمہ۔جب آسمان پھٹ جائے۔تفسیر إِذا السَّمَاء انْفَطَرَت۔میں بھی آخری زمانہ کی پیشگوئی ہے۔کیونکہ قرآن مجید میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے۔اس کا ظہور دنیا میں بھی ہونا چاہیے۔اگر آسمان پھٹ جاوے اور سیارے گر پڑیں وغیرہ وغیرہ اور دنیا زیر وزبر ہو جاوے۔تو وہ وقت انسانی ہدایت اور اصلاح کا نہیں ہوسکتا بلکہ وہ تو ہلاکت کا سماں ہو گا۔ان سورتوں میں جو قیامت کے متعلق واقعات آئے ہیں۔دراصل یہ آخری زمانے کے نشانات ہیں۔اور آسمان کے پھٹ جانے سے یہ مراد نہیں کہ فی الواقعہ آسمان پھٹ جائے گا۔بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہوتی ہے۔اسی طرح آسمان بھی بریکار ہو گا۔آسمان سے فیوض نازل نہ ہوں گے۔اور دنیا ظلمت و تاریکی سے بھر جائے گی۔علاوہ بریں اس آیت اور اس قسم کی دوسری آیتوں پر آجکل کے زمانے کے حسب حال یا مسلمات کے رُو سے اعتراض ہو سکتا ہے کہ آسمان تو مجرد پول ہے۔اس کا پھٹنا کیا معنی رکھتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید نے آسمان کو مجرد پول قرار نہیں دیا بلکہ اُسے ایک لطیف وجود قرار دیا ہے۔اور اگر کہا جاوے کہ پھر اس کے پھٹنے سے کیا مراد ہے؟ تو یہ یادر ہے کہ سماء سے مراد قرآن کریم میں كُلُّ مَا فِي السَّمَاء بھی ہے علاوہ بریں کسی لطیف مادہ میں عدم خرق کس نے تسلیم کیا ہے۔بہر حال قرآن مجید نے یہ شہادت دی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ ہر چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی۔اور تجلیات الہیہ اُس کی جگہ لے لیں گے اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔