حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 168 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 168

حقائق الفرقان ۱۶۸ سُوْرَةُ الْإِنْفِطَارِ فرمایا ہے کہ سب سے بڑی مصیبت امت کے لئے میری وفات ہے۔کواکب کے انتشار سے ظاہری معنے کے علاوہ بڑے بڑے اہل اللہ کا انتقال فرمانا ہے۔بعض کا قول ہے کہ بحار صرف کھارے سمندر ہی کو کہتے ہیں۔مگر یہ صحیح نہیں معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ فرمایا ہے۔وَ مَا يَسْتَوى الْبَحْرُنِ هَذَا عَذَبٌ فُرَاتٌ۔(فاطر: ۱۳) دریاؤں سے نہریں چیر کر نکالنا جیسا کہ اس زمانہ میں ہوا ہے۔پہلے کبھی نہیں ہوا۔قرآن شریف کی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔کوئی دوسری آسمانی کتاب ایسی اس وقت موجود نہیں جو ایسی صفائی سے پیشگوئی کا پورا ہونا دکھلاوے۔بغثر اور بخثر کے ایک معنے ہیں بعث اور بحث سے مرکب ہیں۔ان کے اصلی معنے پلٹ دینے کے، کریدنے کے ہیں۔اور اسفل کو اعلیٰ اور اعلیٰ کو اسفل کر دینے کے ہیں۔عرب کا خاص محاورہ ہے کہ جب مٹی کو پلٹ دیتے ہیں تو بَعثرَ يُبعثرُ بعثرة سے تعبیر کرتے ہیں اور اسباب کو الٹ پلٹ کرنے کے وقت بَعْثَرَ الْمَتَاع کہتے ہیں۔آجکل قبریں ایک جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ دفن کئے جاتے ہیں۔کیا تعجب ہے کہ مسیح کی قبر بھی محلہ خانیار سری نگر کشمیر سے تحقیق کے لئے اکھیڑی جاوے۔اور پھر مع حواریوں کی قبروں کے تبرکاً لے جائے جائیں۔اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ۔وَحُصِلَ مَا فِي الصُّدُورِ (العادیات: ۱۱،۱۰) سے بھی کچھ اشارات ضمیمه اخبار بد قادیان مورخه ۶ / جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۲) ملتے ہیں۔عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَآخَرَتْ - ترجمہ۔تو ہر ایک جان لے گا کیا کچھ اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا ہے۔تفسیر۔جو کام نہ کرنے تھے وہ کئے۔اور جو کام کرنے کے تھے وہ نہ کئے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ جو کیا اور جو کچھ نہ کیا۔قطع نظر اس کے کہ اچھا کیا یا برا کیا۔بات ایک ہی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ جون ۱۹۱۲ صفحه ۳۱۲) - يَايُّهَا الإِنْسَانُ مَا غَرَكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ - ترجمہ۔اے انسان کس چیز نے تجھ کو مغرور کر دیا تیرے رب کریم پر۔تفسیر۔کریم کے کرم سے نا امید بھی نہ ہو اور صرف کرم ہی کی امید پر دھوکا نہ کھا بیٹھو۔دوسری جگہ فرمایا لے اور دو دریا برابر نہیں ہو سکتے ایک تو میٹھا پیاس بجھاتا ہے۔