حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 110
حقائق الفرقان 11 + سُوْرَةُ الدَّهْرِ مخلد ادھیٹر کوبھی کہتے ہیں جس کے بال سفید ہو گئے ہوں۔اور سن ! حضرت زکریا فرماتے ہیں۔رَبِّ الى يَكُونُ لِي غُلَامٌ (مریم: ۹) اے اللہ مجھے کب بچہ عطا ہووے۔اور ابراہیم علیہ السلام کی نسبت ارشاد ہے فَبَشِّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيْمٍ (الصافات: ۱۰۲) ہم نے ابراہیم کو خوشخبری دی ایک عقلمند بچہ کی اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں آیا ہے۔لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَه (الكهف : ۷۵) موسی اور خضر کے سامنے ایک جوان آیا اور خضر نے اس کو قتل کر دیا۔وغیرہ وغیرہ میں دیکھو۔اولا د اور جوانوں کو غلام کہا گیا ہے بلکہ قاموس میں لکھا ہے کہ غلام وہ ہوتا ہے جس کی موچھیں نکل چکیں۔نیز تجھے خبر نہیں کہ عورت اور مرد میں جناب الہی نے قدرت میں مساوات رکھی ہی نہیں۔بچہ جننے میں جو تکالیف عورتوں کو ہوتی ہیں۔اُن میں مردوں کا کتنا حصہ ہے۔کیا مساوات ہے؟ کیا قوی میں مساوات ہے؟ ہر گز نہیں۔میں ہمیشہ حیران کہ مرد و عورت میں مساوات کا خیال کس احمق ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۷۱ تا ۱۷۴) نے نکالا ؟ ۲۱ - وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيْمًا وَ مُلكًا كَبِيرًا - ترجمہ۔اور جب تو دیکھے اس جگہ بے شمار نعمت اور ایک بڑی سلطنت۔تفسیر۔اور جب دیکھے تو وہاں تو دیکھے نعمت اور سلطنت بڑی۔فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۱۷۶ حا ملكًا كبيرًا۔حدیث شریف میں ہے کہ جو دوزخی دوزخ سے سب سے آخر میں نکالا جائے گا۔اس کو اللہ تعالیٰ اس قدر جنت عطا فرما دے گا کہ دنیا وما فیہا اور اس سے دو چند کے مقابلہ کی ہوگی۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۹) و ۲۲ - عليَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَ اسْتَبْرَقُ وَحُلُوا أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ سقهُم رَبَّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا - ترجمہ۔جنتی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے باریک ریشمی سبز اور دبیز ریشمی اور ان کو پہنائے اور دیئے جائیں گے چاندی کے کنگن اور ان کو پلائے گا ان کا پروردگار نہایت پاک کرنے والا شربت