حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 440
حقائق الفرقان ۴۴ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ طرف سے بیا پت یہ پانچ استھول ( عناصر خمسہ) پانچ سوشم ( حواس ) یہ دس بھوت جس کے انگ ہیں اور وہ سب جگت ( مخلوق ) کو اونگھ کر ( کو دکر ) ٹھیرا ہے۔اور منتر نمبر ۳: اس ایشور کی سب زمین وغیرہ چرا چر جگت ( کل مخلوق ) ایک جزو ہیں اس جگت بنانیوالے کے تین حصہ ناش رہت مہما اپنے منور سروپ میں ہے۔نمبر ۴: اور کہا تین حصوں والا پر میشور سب سے او تم سنسار سے الگ مکت سروپ نکلتا ہے۔اس پرش کا ایک حصہ سے ایک جگت میں پھر ہر پیدائش اور پرلے کا چکر کھا تا ہے۔نمبر ۵ میں ہے اس براٹ سنسار کے اوپر سردار پورن برہم رہتا ہے۔اس کے بعد بھی وہ پہلے سے ظاہر برش جگت سے علیحدہ رہتا ہے۔غرض سترہ منتر تک یہی مضمون مکز رکیا گیا ہے پہلے منتر میں یہ لفظ کہ وہ سب جگت کو اونگھ کر ٹھیرا ہے۔منصف انسان کے لئے قابل غور ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے۔کہ وہ خدا پر میشر سب جگت کو پھاند کر ٹھہرا ہے۔اور تیسرے منتر کا مطلب ہے کہ خدا پر میشور کے چار حصہ ہیں۔ایک حصہ مخلوق میں اور تین حصہ بالاتر ہیں۔اور نمبر ۴ کا مطلب ہے کہ پر میشور سنسار سے الگ ہے اور اس کے تین حصہ خلق سے بالا ہیں اور نمبر ۵ میں ہے۔اوپر پورن برہم رہتا ہے۔اور ( دیونہ۔امرت مانشو ناش ترشئے وہام لوگ ندھیر تم ) کا مطلب اور عرش پر ہے کا مطلب اگر ایک نہ ہو تو ہم ذمہ دار ہیں۔سوال سوم : اگر قرآن کریم نے آٹھ کا ذکر کیا ہے تو وہاں فرشتوں کا تذکرہ نہیں مگر آپ کے ہاں صاف مسلم ہے کہ آٹھ دیوتا اس کے تخت سلطنت کو اٹھا رہے ہیں۔دیکھو ستیارتھ پرکاش صفحہ ۴۴ میں ہے کہ یا گولکیہ جی نے شاکلیہ کو فرمایا ہے۔آٹھ دسویہ ہیں۔پھر ان کی تفصیل کرتے کہا ہے کہ ان سب کو دسو اس لئے کہتے ہیں کہ ان میں یہ گنج کائنات محفوظ اور قائم ہے یا گولکیہ کے معتقدہ انسانی بات کو ماننا اور خدائے پاک کی بات کو نہ ماننا کیسی بے انصافی ہے۔اور حقیقی بات سناتے ہیں۔