حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 441
حقائق الفرقان ۴۴۱ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ سنو! مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے۔جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔تمام قرآن شریف کو اول سے آخر تک پڑھو۔اس میں ہرگز نہیں پاؤ گے کہ عرش کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کرنے والا ہوں۔میں ہی زمین آسمان اور روحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔میں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے۔مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے۔جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔اگر کوئی آریہ قرآن شریف میں سے نکال دے کہ عرش بھی کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے تو میں اس کو قبل اس کے جو قادیان سے باہر جائے ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ میں قرآن شریف کی وہ آیت دکھاتے ہی ہزار روپیہ حوالہ کر دوں گا۔ورنہ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ایسا شخص خود لعنت کا محل ہو گا جو خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اس اعتراض کی بنیاد تو محض اس بات پر ہے کہ عرش کوئی علیحدہ چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔اور جب یہ امر ثابت نہ ہو سکا تو کچھ اعتراض نہ رہا۔خدا صاف فرماتا ہے کہ وہ زمین پر بھی ہے اور آسمان پر بھی ہے اور کسی چیز پر نہیں۔بلکہ اپنے وجود سے آپ قائم ہے اور ہر ایک چیز کو اٹھائے ہوئے ہے۔اور ہر ایک چیز پر محیط ہے۔جہاں تین ہوں تو چوتھا ان کا خدا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۸۲ تا ۲۸۴) جہاں پانچ ہوں تو چھٹا ان کے ساتھ خدا ہے اور کوئی جگہ نہیں جہاں خدا نہیں اور پھر فرماتا ہے۔اينمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ (البقرة : ١١٦) جس طرف تم منہ کرو اسی طرف تم خدا کا منہ پاؤ گے۔وہ تم سے تمہاری رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔وہی ہے جو پہلے ہے اور وہی ہے جو آخر ہے اور سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے اور وہ نہاں در نہاں ہے اور پھر فرماتا ہے۔