حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 439
حقائق الفرقان ۴۳۹ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ کے لئے ہے۔کیونکہ اس جگہ محل قابلات تجلیات بہت ہوں گے۔وجہ یہ ہے کہ نفوس مطمئنہ جب اس عالم سے منقطع ہو کر عالم ثانی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اپنی اپنی استعدادوں کے موافق ترقی کرتی ہیں تو ربوبیت و رحمانیت و رحیمیت اور مالکیت ان کی قابلیتوں و استعدادوں کے حساب پر جوش زن ہوں گے۔چنانچہ عارفوں کے کشوف اس امر پر گواہ ہیں اگر تم ان لوگوں میں سے ہو جن کو قرآن کریم سے حصہ ملا ہے تو ایسا بیان قرآن میں بہت پاؤ گے۔نظر دقیق سے دیکھو تا کہ اس شہادت کی تحقیق کو قرآنِ کریم سے پالو۔اللہ تعالیٰ کے عرش پر بیٹھنے اور آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کے متعلق آریوں نے بعض اعتراض کئے ہیں۔جن کے جواب حضرت خلیفہ اسیح نے جو دیئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔سوال۔(۱) خدا زمین و آسمان پر کرسی نشین ہے گویا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔(۲) عرش پر وو ہے۔(۳) اس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے۔الجواب۔" پہلا سوال محض غلط فہمی اور علوم الہیہ حقہ سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب اس پر متفق ہیں۔ہاں تارک اسلام کو علوم اسلامی سے نابینائی کی وجہ سے کرسی سے ٹھوکر لگی اور منہ کے بل جہالت کے گڑھے میں گرا ہے۔سنو! ہماری مکرم کتاب صحیح بخاری میں جسے ہم کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب مانتے ہیں۔لکھا ہے۔كُرْسِية - عِلمه یعنی کرسی کے معنے علم کے ہیں۔معنے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (البقرۃ:۲۵۶) کے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا علم تمام بلندیوں اور زمین کو وسیع و محیط ہورہا ہے۔اب بتاؤ اس مسئلہ میں جو مذاہب اللہ تعالیٰ کے ماننے والے ہیں اور صفات الہیہ کے منکر نہیں۔ان میں کس کو کلام اور بحث ہے۔سوال دوم۔پر الزامی جواب کو اور سوال سوم کے الزامی کے بعد حقیقی جواب کو ملاحظہ کرو۔تمہارے بیجر ویداکتیسویں ادھیائے میں لکھا ہے۔دیکھو نمبرا ”اے منشو۔سب پرانیوں کی ہزاروں آنکھیں ہزاروں پاؤں جس سروتر بیا پک جگ ویشور میں ہیں۔وہ پرش ہے۔وہ تمام بھو گول میں سب