حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 340 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 340

حقائق الفرقان ۳۴۰ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ کہہ دو۔اے یہودیو! اگر تمہیں یہ ناز اور گھمنڈ ہے کہ تم اللہ کے ولی ہو۔تو اگر اس دعوی میں سچے ہو تو پھر الموت کی تمنا کرو۔یہودیوں کو اس لئے خصوصاً مخاطب فرمایا کہ وہ عیسائیوں کے بالمقابل مشکلات میں نہ تھے۔اور کتاب اللہ کے وارث تھے۔چونکہ عمل نہ تھا اور دنیوی لذات اور شہوات پر جو عارضی اور فانی تھیں مر مٹے تھے۔اس لئے گدھے کہلائے۔بایں وہ اس امر کے مدعی تھے کہ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللهِ وَ احِباءُ ذَان کا یہ دعوئی لوگوں کو حیرت میں ڈالتا تھا۔اس لئے اس دعوی کی صحت اور عدم صحت کے لئے اللہ تعالیٰ اب اس طرح پر تحدی کرتا ہے۔عیسائیوں کی طرح مشکلات میں نہ تھے اس سے یہ مراد ہے کہ عیسائی قوم اپنی کتاب کے متعلق خطر ناک مشکلات میں مبتلا ہے۔اوّل حضرت مسیح کی کوئی کتاب ہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور یہ مشکل بہت ہی خطرناک مشکل ہے۔پھر دوسری مشکل یہ ہے کہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہے۔اس کے متعلق یہ قطعی اور یقینی فیصلہ نہیں ہے کہ وہ مسیح کے حواریوں کی ہی ہے۔کیونکہ لوقا اور مرقس کی بابت تو صاف فیصلہ ہے کہ وہ حواری نہ تھے۔اور یوحنا کی بابت بھی بہت سے اعتراض ہوتے ہیں اور ان میں الحاقی حصے پائے جاتے ہیں۔پھر یہ دعویٰ نہیں کہ وہ خدا کے الہام اور وحی سے لکھے گئے ہیں۔پھر تیسری مشکل اور ہے کہ ان میں باہم اس قدر اختلاف ہے جو ان کو پایۂ اعتبار سے ساقط کر رہا ہے۔علاوہ بریں بہت باتیں اُن میں ایسی پائی جاتی ہیں۔جن کی کوئی اصل ہی نہیں۔چہارم یہ مشکل ہے کہ جس زبان میں مسیح نے وعظ کہا تھا۔وہ عبری زبان تھی۔ان کی ماں کی بھی یہی بولی تھی۔چنانچہ مسیح کے آخری الفاظ جو انجیل میں موجود ہیں۔ایلی انیلی لِمَا سَبَقْتَانِی۔یہ بھی عبرانی ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں یونانی کو اصل سمجھا گیا۔حالانکہ یہ زبان عبری کے مقابل میں رڈی اور کفر سمجھی جاتی تھی۔یہاں تک کہ یروشلم میں یونانی کے متعلق کسی نے فتوی پوچھا کہ کیا اس کو پڑھ سکتا ہوں تو اس کو یہی جواب دیا گیا کہ رات اور دن کے تمام گھنٹوں میں عبرانی پڑھو۔پھر اس سے جو وقت بچے اس میں یونانی پڑھ لو۔اب اس سے اندازہ کر لو کہ یونانی کیسی پھیلی ہوئی تھی اور اس سے کس طرح فائدہ اٹھا