حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 341
حقائق الفرقان ۳۴۱ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ سکتے تھے۔یوسی فس مؤرخ عبری تھا۔وہ یونانی جانتا تھا مگر اسے یہ عذر کرنا پڑا کہ یونانی حرام ہے۔اچھا آدمی اس کو سیکھ نہیں سکتا۔یوسی فس مستثنیٰ کیا گیا ہے۔اور اس طرح پر گویا قوم کا کفر کیا گیا ہے۔غرض اس قسم کے مشکلات میں عیسائی قو میں مبتلا ہیں۔سب سے بڑی مشکل جس کا ابھی میں نے ذکر کیا۔انجیل کی اصلی زبان کا سوال ہے۔جس کے حل نہ ہونے کی وجہ سے اناجیل کی حقیقت بہت ہی کمزور اور بے اصل ثابت ہوتی ہے۔جب یہ پتہ ہی نہ رہا کہ اصل کتاب کس زبان میں تھی؟ تو کتاب کی اصلیت میں کتنا بڑا شک پڑتا ہے! اور یہ ایسی زبر دست زد ہے عیسائی مذہب پر کہ اس کا جواب کچھ نہیں دے سکتے۔چونکہ اصل کتاب ہاتھ میں نہیں ہے۔بلکہ ترجمہ در ترجمہ ہے اس لئے اور بھی غلطیاں در غلطیاں اس میں واقع ہو گئیں ہیں۔اور اس کا اندازہ کرنا ہی اب قریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ یہ قوم کس قدر غلطیوں میں مبتلا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کتاب کے متعلق یہی فیصلہ دیا ہے۔ق فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ - (البقرة :٨٠) غرض عیسائی قوم تو ان مشکلات میں مبتلا تھی اور ہے۔اس لئے اس قوم کو مخاطب کیا جس کا یہ دعوی تھا۔نَحْنُ ابْنَوُا اللهِ وَاحِبَّاوُة - ( المائدة : ۱۹) پس ان کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تمہارا یہ دعوے اور زعم ہے کہ تم خدا کے محبوب اور ابناء اور اولیاء ہوتو پھر الموت کی تمنا کرو۔اولیاء اللہ نہیں فرمایا۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا کہ ایسی قوم کو جو گدھے سے مشابہ ہو چکی ہے۔اپنی طرف مضاف کرے۔الموت کی تمنا کرو۔یہ ایک قول فیصل ہے ان لوگوں کے درمیان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بروز علیہ الصلوۃ والسلام کے درمیان۔بہادر ہو۔ل پھٹکار ہے ان لوگوں کے لئے جو کتاب کو تو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں پھر ( جھوٹ ) لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہی اللہ کا حکم ہے تا کہ ان جھوٹی تحریروں سے تھوڑی سی دنیا کما لیں۔پس خرابی اور رسوائی ہے ان کو جنہوں نے یہ ( جھوٹ ) اپنے ہاتھوں سے لکھا اور کمائی پر بھی تھو ہے جو وہ کماتے ہیں۔ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔