حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 339 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 339

حقائق الفرقان ۳۳۹ سُوْرَةُ الجُمُعَةِ مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْرَابِةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا یا جوج اور ماجوج دونوں قوموں کی نسبت بعض مصنفوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ دراز گوش ہیں۔اس فقرہ کے سمجھنے میں بہت لوگوں نے جو مقدس کتابوں کی طرز کلام سے بالکل نا آشنا ہیں۔کئی غلط نتیجے نکالے ہیں مگر وہ یا درکھیں کہ دراز گوش گدھے کو کہتے ہیں اور جو آدمی علم کے مطابق عمل نہ کرے۔اسے بھی الہامی زبان میں گدھے سے تشبیہ دی گئی ہے۔دیکھو! قرآن میں آیا ہے مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَابِةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا۔اور ظاہر ہے کہ روس اور انگریز ، جرمن اور ڈنمارک والے الہیات کے سچے علوم اور روحانی برکات سے بالکل محروم ہیں۔علم الہیات ان کا نہایت کمزور ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کہ ہمارے علمی مذاق والے آریہ بھی اس کے ماننے سے انکار نہیں کر سکیں گے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۶۴٬۶۳) محرومی کے اسباب سے بچو۔ان اسباب کا علم قرآن مجید میں موجود ہے۔جو قرآن شریف پر تدبر کرنے سے آتا ہے اور اس کے ساتھ تقوی کی بھی شرط ہے۔میں سچ کہتا ہوں۔۔۔یہ علوم جو قرآنِ مجید میں بیان ہوئے ہیں درس تدریس سے آہی نہیں سکتے بلکہ وہ تقوی اور محض تقوی سے ملتے ہیں وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلَيْكُمُ اللهُ (البقره: ۲۸۳) اگر محض درس تدریس سے آ سکتے تو پھر قرآن مجید میں مَقَلُ الَّذِيْنَ حُمِلُوا التَّوْرَابِةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ کیوں ہوتا؟ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۵) قُلْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمُ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءَ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فتمنوا المَوْتَ اِنْ كُنْتُم صُدِقِينَ - ترجمہ۔تو کہہ دے اے یہود! اگر تم دعوی کرتے ہو کہ تمہیں اللہ کے دوست ہولوگوں کے سوائے تو تم آرزو کر ومرنے کی ( یا جنگ کی ) جب تم سچے ہو۔لے ان لوگوں کی مثال جن پر توریت اٹھوائی گئی۔پھر انہوں نے اس کو نہ اٹھایا گدھے کی مثال ہے جس پر کتابیں لدی ہیں۔سے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اللہ تم کو سکھاتا ہے۔