حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 21
حقائق الفرقان ۲۱ سُوْرَةُ يُس تفسیر - يَسْتَهْزِءُونَ۔تحقیر کرتے ہیں۔یہی معنے ٹھیک ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۱) ٣٤ - وَايَةٌ لَهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبَّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ - ترجمہ۔اور ایک آیت ان کے لئے مردہ زمین ہے اس کو ہمیں نے زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگا یا جس میں سے وہ کھاتے ہیں۔تفسیر۔بندوں کو اللہ تعالیٰ سمجھانے کیلئے بہت سی مثالیں بیان فرماتا ہے۔تمثیلوں سے بات خوب واضح ہو جاتی ہے۔دنیا کی تمام مہذب قوموں کے لڑیچر میں یہ طرز پایا جاتا ہے۔مسلمانوں میں مثنوی مولانا روم اس کی بہترین مثال ہے۔الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ۔یہ سمجھایا ہے کہ اس ملک میں اخلاقی حالت ، یک جہتی ، امنِ عامہ سب کچھ مر چکا تھا۔امن عامہ کا یہ حال تھا کہ ایک کتی کے بچے کے مرنے پر ہزاروں ہی کٹ کے مر گئے۔بت پرستی جس کا لازمہ جھوٹے قصے ہیں کیونکہ پجاری اپنے اپنے بتوں کی فوقیت ثابت کرنے کیلئے عجیب عجیب فسانے تراش لیتے ہیں۔جن ملکوں میں شرک ہوتا ہے۔وہاں الہیات کا علم بالکل نہیں ہوتا۔پہاڑوں پر ایسی حالت بہت پائی جاتی ہے۔یورپ میں قطعا بت پرستی ہی رہ گئی ہے۔حضرت صاحب نے ایک موقع پر نہایت عمدہ نکتہ لکھا ہے کہ ان لوگوں نے نئی نئی ایجادیں کی ہیں یہاں تک کہ خدا بھی نیا ہی گھڑ لیا ہے۔لوتھر نے لکھا ہے کہ بدکاری کر اور پیٹ بھر کر ، کر۔کیا مسیح تیرے لئے کفارہ نہیں ہوا۔ایک پڑھے لکھے شخص سے میں نے پوچھا۔ایک شخص ننگے سر دولکڑیاں ہاتھ میں لئے بھاگتا ہوا تمہاری کوٹھی کی طرف آئے اور کہے۔آئی ایم گاڈ ، آئی ایم گاڈ۔تو تم اسے کیا کہو گے۔اس نے کہا کہ آپ گستاخی