حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 22
حقائق الفرقان ۲۲ سُوْرَةُ يُس کرتے ہیں۔میں نے کہا۔پاگل ہی کہتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب زمین مردہ ہوتی ہے تو آسمان سے جو پانی برستا ہے اس سے۔وه بقاعده وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (طارق : ۱۲، ۱۳) زندہ ہو ہی جاتی ہے۔اور جو جو بیچ بڑھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔وہ اس سے آگ پڑتے ہیں۔اسی طرح آسمانی وحی کا پانی مردہ دلوں پر پڑ کر ( جن میں استعدا د ہو ) ان کو زندہ کرتا ہے۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۱) سُبُحْنَ الَّذِى خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَ 1199 مِمَّا لَا يَعْلَمُونَ - ترجمہ۔وہ پاک ذات ہے جس نے پیدا فرمائے ہر چیز کے جوڑے جوڑے اس قسم میں سے جو زمین اگاتی ہے اور خود ان کی ذات میں سے اور ان چیزوں میں سے جن کو وہ جانتے ہی نہیں۔تفسیر۔خَلَقَ الأَزْواج - روئیدگی کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے کہ اس کو کھا کرنسل بڑھتی ہے۔اس تمثیل میں سمجھا دیا ہے۔جیسے بارش ہو تو کوئی روئیدگی کو روک نہیں سکتا۔اسی طرح یہ الہامی بارش جو ہوئی۔تو اب اس کے نتیجہ سے ایک قوم پیدا ہونے والی ہے۔تم اسے روک نہیں سکتے۔دور کیوں جاؤ۔اس گاؤں میں بھی ایک شخص پر خدا کے فضل کی بارش ہوئی۔اور پھر باوجو د سخت مخالفت کے ایک قوم خدا کے دین پر چلنے والی پیدا ہو گئی۔اور تم جو یہاں دو تین سو بیٹھے ہو۔یہ اسی کا (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳ و ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۱) ثبوت ہے۔مِمَّا لَا يَعْلَمُونَ۔تمام نر و مادہ کا علم دنیا کو نہیں۔پتھروں کے ،درختوں کے۔دونوں کے ( تفخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۷۶-۴۷۷) جوڑے ہوتے ہیں۔ا اور قسم ہے برسات والے آسمان کی ( کیونکہ زمین سے پانی جا کر واپس آتا ہے )۔اور زمین کی قسم جو بہت پھٹ جاتی ہے ( بسبب جھاڑا اور روئید گیوں اور دوسرے صدمات کے )۔