حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 169
حقائق الفرقان ۱۶۹ سُوْرَةُ الْأَحْقَافِ - آم يَقُولُونَ افْتَرَبهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيْهِ كَفَى بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۖ وَهُوَ الْغَفُورُ لرَّحِيمُ۔- ترجمہ۔کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کو نبی نے اپنے دل سے بنالیا ہے تو جواب دے دے کہ اگر میں اس کو بنالا یا ہوں اپنے دل سے تو تم اللہ سے میرا کچھ پیچھا نہیں چھڑا سکتے وہی بخوبی جانتا ہے جن کاموں میں تم لگے ہوئے ہو تو اللہ کی یہ غیب گوئی کافی ہے تمہارے میرے درمیان شہادت دینے کو اور وہی غفور الرحیم ہے۔تفسیر۔کیا کہتے ہیں یہ بنالا یا تو کہ اگر میں بنالا یا ہوں تو تم میرا بھلا نہیں کر سکتے۔اللہ کے فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۱۹۹ حاشیہ ) ١١،١٠ - قُلْ مَا كُنتُ بِدُعَا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ فِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ قُلْ أَرَوَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَ كَفَرْتُم بِهِ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى سامنے کچھ۔مِثْلِهِ فَأَمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُم إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ - ترجمہ۔تو کہہ دے میں نیا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں اور میں جانتا نہیں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور میں تو اُسی پر چلوں گا جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں ہوں ہی کیا صرف ایک کھلم کھلا دشمنوں کو ڈرانے والا ہی۔تو کہہ دے بھلا غور کرو یہ قرآن اگر اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کو نہ مانا اور بنی اسرائیل کا ایک حکمران شہادت دے چکا اپنے مثیل کی تو وہ ایمان لا چکا اور تم نے اپنے کو بڑا سمجھا اور دوسرے کو حقیر۔کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ تو اللہ کی بتائی ہوئی نہیں۔تفسیر۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا لطیف ارشاد فرما یا قُلْ مَا كُنْتُ بِدْءًا مِّنَ الرُّسُلِ کہہ دو کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا۔مجھ سے پیشتر ایک دراز سلسلہ انبیاء ورسل کا گزرا