حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 170 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 170

حقائق الفرقان ۱۷ سُوْرَةُ الْأَحْقَافِ ہے۔ان کے حالات دیکھو۔وہ کھاتے پیتے بھی تھے۔بیویاں بھی رکھتے تھے۔پھر مجھ میں تم کون سی انوکھی اور نرالی بات پاتے ہو غرض یہ مامور ایک ہی قسم کے حالات اور واقعات رکھتے ہیں۔ان پر اگرانسان خدا ترسی اور عاقبت اندیشی سے غور کرے تو وہ ایک صحیح رائے اور یقینی نتیجہ پر پہونچ سکتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخه ۱۷ فروری ۱۹۰۱ صفحه ۶) ہمارے سید و مولیٰ فرماتے ہیں کہ مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا۔آدم سے لے کر اب تک جو رسول آئے ہیں۔ان کو پہچانو۔ان کی معاشرت ، تمدن اور سیاست کیسی تھی اور ان کا انجام کیا ہوا؟ ان کی صداقت کے کیا اسباب تھے۔ان کی تعلیم کیا تھی۔ان کے اصحاب نے اُن کو پہلے پہل کس طرح مانا۔ان کے مخالفوں اور منکروں کا چال چلن کیسا تھا اور ان کا انجام کیا ہوا؟ یہ ایک ایسا اصل تھا کہ اگر اس وقت کے لوگ اس معیار پر غور کرتے تو ان کو ذراسی دقت پیش نہ آتی۔اور ایک مجدد ، مہدی ، مسیح مرسل من اللہ کے ماننے میں ذرا بھی اشکال نہ ہوتا۔مگر اپنے خیالات ملکی اور قومی رسوم ، بزرگوں کے عادات کے ماننے میں تو بہت بڑی وسعت سے کام لیتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اس کے احکام کیلئے خدا کے علم اور حکمت کے پیمانہ کو اپنی ہی چھوٹی سی کھو پڑی سے ناپنا چاہتے ہیں۔ہر ایک امام کی شناخت کیلئے یہ عام قاعدہ کافی ہے کہ کیا یہ کوئی نئی بات لے کر آیا ہے؟ اگر اس پر غور کرے تو تعجب کی بات نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ اصل حقیقت کو اس پر کھول دے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو بیچ سمجھے اور تکبر نہ کرے۔ورنہ تکبر کا انجام یہی ہے کہ محروم رہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۱ ء صفحہ ۱۰۔۱۱) ہمارے سید و مولی بادی کامل محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت اور نبوت کو پیش کرتے ہوئے یہی فرمایا اور یہی آپ کو ارشاد ہوا۔قُلُ مَا كُنْتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا ہوں۔جو رسول پہلے آتے رہے ہیں۔ان کے حالات اور تذکرے تمہارے پاس ہیں۔ان پر غور کرو اور سبق سیکھو کہ وہ کیا لائے۔اور لوگوں نے ان پر کیا اعتراض کئے۔کیا باتیں تھیں جن پر عمل درآمد کرنے کی وہ تاکید فرماتے تھے اور کیا امور تھے جن سے نفرت دلاتے تھے۔پھر اگر مجھ میں