حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 64 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 64

حقائق الفرقان زیادہ تفصیل کی کیا ضرورت ہے۔۶۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة الصَّلوةَ۔وہ خاص نماز جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر دکھلائی۔صلوۃ کا لفظ صلی سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں کسی لکڑی کو گرم کر کے سیدھا کرنا۔اور چونکہ نماز سے بھی انسان کی تمام کبھی نکل کر وہ سیدھا ہو جاتا ہے اس لئے نماز کو صلوٰۃ کہتے ہیں۔وہ کجیاں کیا ہیں؟ محش اور غیر پسندیدہ امور کی طرف انسان کا میلان۔ان سے یہ نماز روکتی ہے جیسے فرما یا إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (العنكبوت: ٤٦)۔انسان کی نجات کا مدار ایمان کے بعد دو باتوں پر ہے ایک تعظیم لأمر الله۔دوسرے شفقت على خَلْقِ الله۔پہلی بات تعظیم لامر اللہ کے لئے صلوۃ ہے کہ انسان دنیاوی حکام کی ملا زمت میں مشغول ہوتا ہے اور اس کی ناراضگی کا خطرہ ہوتا ہے اور نماز کا وقت آتا ہے تو ان سب حاکموں کو چھوڑ کر وہ احکم الحاکمین کے حکم کی اطاعت کرتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے اور جس الغیب ہستی پر وہ ایمان لا یا تھا پانچ دفعہ دن میں اس ایمان کی عملی شہادت اپنے اعضاء سے دیتا ہے اسی طرح تاجرا اپنی تجارت اور ہر پیشہ ور اپنے پیشے میں جب نماز کے اوقات کی پابندی كَمَا حَقُہ کرتا ہے تو یہ اس کے مومن ہونے کی دلیل ہوتی ہے اور یہ ثبوت ہوتا ہے اس امر کا کہ اس نے اپنا معبود، اپنا حاکم اور اپنا رازق اللہ تعالیٰ ہی کو مانا ہوا ہے اور اپنی تجارت یا پیشہ کو اس کا شریک نہیں بنایا ہے۔صلوۃ کے معنے دعائے رحمت کے بھی ہیں اور اختصاراً یہاں تمام حقوق الہی پر شامل ہے اس لحاظ سے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے یہ معنے بھی ہوئے کہ وہ تمام حقوق الہی کو قائم کرتے ہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳۰،۲۳ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۶،۵) قرآن مجید کی اصل غرض اور غایت تقویٰ کی تعلیم دینا ہے۔اتقاء تین قسم کا ہوتا ہے پہلی قسم انتقاء کی علمی رنگ رکھتی ہے یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے اس کو يُؤْمِنُونَ بِالْغَیب کے الفاظ میں ادا کیا۔دوسری قسم عملی رنگ رکھتی ہے جیسا کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ میں فرمایا ہے۔انسان کی وہ لے کچھ شک نہیں کہ نماز روکتی ہے کھلی بے حیائی اور کار بد سے (یہود اور نصاری بننے سے)۔(ناشر)