حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 65
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة نمازیں جو شبہات اور وساوس میں مبتلا ہیں کھڑی نہیں ہوتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے يَقْرَؤُن نہیں فرمایا بلکہ يُقيمون فرمایا یعنی جو حق ہے اس کے ادا کرنے کا۔ہر ایک چیز کی ایک علت غائی ہوتی ہے اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہو جاتی ہے۔یقیمُونَ الصَّلوة سے لوازم الصلوۃ معراج ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہوتا ہے مکاشفات اور رؤیا صالحہ آتے ہیں۔لوگوں سے انقطاع ہو جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پید اہونے لگتا ہے یہاں تک کہ تبتل تام ہو کر خدا سے کامل تعلق پیدا کر لیتا ہے۔الحکم جلد ۱۴ نمبر ۱۰ مورخه ۲۱ / مارچ ۱۹۱۰ء صفحه ۳) صلوة اس تعظیم اور عبادت کا نام ہے جو زبان ، دل اور اعضاء کے اتفاق سے ادا کی جاوے کیونکہ ایک منافق کی نماز جو کہ ریاء اور دکھلاوے کی غرض سے ادا کی گئی ہو نماز نہیں ہے۔نماز بھی ایک تعظیم ہے جس کا تعلق بدن سے ہے۔بدن کا بڑا حصہ دل اور دماغ ہیں۔چونکہ زبان نماز کے الفاظ ادا کرنے میں اور دل و دماغ اس کے مطالب و معانی میں غور کر کے تو جہ الی اللہ کرنے میں اور ظاہری اعضاء ہاتھ پاؤں وغیرہ ظاہری حرکات تعظیم کے ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں اور ان سب کے مجموعہ کا نام بدن یا جسم ہے اس لئے بدنی عبادت کا نام صلوۃ ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۶ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۳) يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔وہ اپنی نمازوں، دعاؤں کو سنوار سے ادا کرتے ہیں اور پھر جو کچھ ہم نے دیا۔اس سے خرچ بھی کرتے رہتے ہیں۔بہت دنوں سے یہ بات میرے دل میں قائدہ کی طرح جم گئی ہے کہ جو کبھی کچھ بھی خدا کی راہ میں نہیں دیتا۔نہ دعا مانگتا ہے وہ ہدایت سے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۱۴ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۳) محروم رہ جاتا ہے۔اسلامی نماز اسلامی دوسری اصل نماز ہے۔نماز کیا ہے؟ خدا سے دلی نیاز ، اور یہ عبادت تمام مذاہب میں اصل عبادت ہے۔اور کچھ شک نہیں دلی جوشوں کا اثر ظاہری حرکات اور سکنات پر ضرور پڑتا ہے اور ظاہر