حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 63
حقائق الفرقان ۶۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لوگوں سے غائب ہیں۔پس بالغیب یہاں پر ایسا ہے جیسا کہ ہاللہ امَنَّا بِاللہ میں ہے۔اور دلائل بیہقی میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا أَلا إِنَّ انجب الْخَلْقِ إِلَى إِيْمَانًا قَوْمٌ يَكُونُونَ بَعْدَ كُمْ يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كُتُبْ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهِ۔ہاں ! سب مخلوق سے مجھے زیادہ پسند ان لوگوں کا ایمان ہے جو کہ تم سے پیچھے آئیں گے تو کچھ صحیفے پائیں گے کہ جن میں کتا بیں ہوں گی اور وہ ان پر ایمان لائیں گے۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۴۔اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۱۵۰) صلوۃ کی اقامت سے یہ مراد ہے کہ سجود، رکوع ، تلاوت کو پورا کیا جائے اور خشوع اور حضور کے ساتھ پڑھی جائے اور خوب توجہ رکھی جائے۔تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے یہی معنے بیان فرمائے ہیں۔اقامت چیز کے ادا کرنے کو بھی کہتے ہیں۔پس ان معنوں کے لحاظ سے یہ مقصد ہو گا کہ صلوۃ کا حق ادا کر تے یا یوں کہنا چاہیے کہ اس کو کما حقہا ادا کرتے ہیں اور امام راغب نے لکھا ہے کہ یہ لکڑی کی اقامت سے ہے جو کہ سیدھا کرنے کے معنوں میں ہے یا بمعنے مداومت یا بمعنے محافظت ہے۔پس معنے یہ ہوں گے کہ صلوٰۃ کو سیدھا کرتے ہیں یا اس پر مداومت کرتے ہیں یا اس کی محافظت کرتے ہیں جیسا قرآن مجید میں آیا هُمْ عَلى صَلَاتِهِمْ دَابِرُونَ (المعارج:۲۴) وہ اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (المؤمنون: ١٠) وہ اپنی نمازوں پر حفاظت کرتے ہیں۔رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۵۔نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۱۶۹) يُقِيمُونَ الصَّلوةَ۔وہ نماز کو قائم کرتے ہیں یقیمُونَ قائم کرتے ہیں یعنی کھڑی کرتے ہیں۔اس لفظ کے استعمال میں یہ لطیفہ ہے کہ چونکہ ابتدائی منازل میں مومن کی نفسِ اتارہ سے جنگ ہوتی ہے نفس اس کو بار بار دُنیا اور اس کے لذات اور افکار کی طرف کھینچتا ہے اور ادھر یقینی امر کے تحصیل کے واسطے اس کے دل میں امنگ ہوتی ہے۔ایسے موقع پر متقی کو ایک جنگ کرنا پڑتا ہے اس لئے فرمایا کہ بوجہ وساوس کے متقی کی نماز بار بار گرتی ہے مگر وہ ہر آن اسے پھر قائم کرتا ہے۔یہ ایک ایسی حالت ہے جسے پڑھنے والے خوب مشاہدہ کرتے ہوں گے یا کر چکے ہوں گے