حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 604
حقائق الفرقان ۶۰۴ سُورَةُ الْبَقَرَة يَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَان (ابراهیم: ۱۸) پریشانی و پرا گندگی کرتے ہیں ۔ آمَا تَهُ اللهُ مِائَةَ عام سے یہ مراد ہے کہ حز قیل کو خدا نے سوسال تک غم اور پریشانی اور حزن مکڈر الحیاۃ میں رکھا۔ بیس برس کی عمر میں حزن پیدا ہوا ۔ یروشلم تباہ ہو چکا تھا ۔ ۷۰ برس تباہی رہی ۳۰ برس میں آباد ہوئی پھر اللہ تعالیٰ نے یوروشلم کو آباد کر دیا تو عز را نبی تشریف لائے۔ دیکھا کہ جہاں پانی نہ تھا وہاں کھانے پینے کی تمام چیزیں تازہ بتازہ، نو بہ نو ( نہ کہ سڑی کسی ) موجود ہیں بلکہ مال مویشی اور سواری کے جانور بھی ۔ یہ معنے بھی کسی وقت دلچسپی سے خالی نہیں ۔ وَانْظُرُ إِلَى الْعِظَامِ - آنی یخی کب اور کس طرح زندہ کرے گا، کا عقلی جواب ہے کہ تم اپنی ہڈیوں ہی کو دیکھو کہ اللہ انہیں آہستہ آہستہ کس طرح اُٹھاتا ہے۔ جہاد میں اس قصے کے بیان کا یہ فائدہ ہے کہ خدا نے فرمایا ویرانی اور آبادی میرے اختیار میں ہے پس تم اپنے لوگوں میں سے کسی کے قتل ہو جانے پر حزن مت کرو۔ تم اس پر کامل یقین کرو۔ وہ ہمیں ایک زندہ قوم بنادے گا۔ میں نے ایک مشہور مفسر کو دیکھا ہے کہ اس نے عام کے معنے دن کے کئے ہیں تو اس لحاظ سے مِائَةَ عام سے ۲۴ چلے مراد لیتا ہے جو حز قیل نبی کو دعا و اضطراب میں جو ایک قسم کی موت تھی کاٹنے پڑے۔ یہ معنے قاموس نے لکھے ہیں مر قاموس نے انے لکھے ہیں مگر قاموس نے غلطی کھائی ہے۔ وہ لفظ دراصل عیام ہے جسے وہ عام سمجھا۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۶ رمتی ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۷، ۴۸ ) ایک اور شخص کا ذکر ہے جو ایک بستی کے قریب سے گزرا اور از راہ استعجاب کہنے لگا آئی یخی هذهِ الله ۔ یہاں بھی لوگوں نے بحث کی ہے کہ وہ کافر تھا یا قیامت کا منکر تھا یا مومن تھا بلکہ نبی تھا۔ بعض کے نزدیک یرمیاہ یرمیاہ بعض کے عزیر بعض کے حز قیل تھا۔ حالانکہ یہ بحث فضول ہے۔ تو اتر اور پھر یہودیوں کی تاریخ سے ظاہر ہے کہ یہ بستی یروشلم تھی جو بخت نصر بابلی کے ذریعے تباہ ہوئی ۔ حز قیل نبی گزرے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں رویا میں اس کی آبادی کا نظارہ دکھایا۔ رؤیا کا ثبوت ایک تو حز قیل نبی لے اس پر موت آئے گی ہر طرف سے۔ (ناشر) ۲ مار رکھا اللہ نے اُس کو سو برس ۔ (ناشر)