حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 603
حقائق الفرقان ۶۰۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة چنانچہ ہماے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں دودھ اور شراب پیش کیا گیا تو آپ نے دودھ پیا تب جبرائیل نے بتایا کہ اگر آپ شراب پیتے تو تمام امت بدکار ہو جاتی۔ایسا ہی ایک مقام پر قرآن کریم میں آیا ہے يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء (الطلاق: ۲) پہلے نبی سے خطاب ہے مگر پھر آگے چل کر کھول دیا ہے کہ نبی قائم مقام اُمت ہے۔پس آمَاتَهُ الله سے قوم کی ویرانی و تباہی مراد ہے جو ایک سو سال تک رہی۔پھر وہ قوم از سرِ نو زندہ ہوئی۔غرض حز قیل کو خدا نے وہ نظارہ رؤیا میں دکھایا حز قیل اپنے قیاس سے يَوْمًا أَوْبَعْضَ يَوْمٍ کہتا ہے مگر خدا تعالیٰ اسے سو سال بتا تا ہے مگر ساتھ ہی بتایا ہے کہ تم بھی سچے ہو کیونکہ طعام وشراب پر سال نہیں گزرے اور رویا میں یہ بات ممکن ہے۔چنانچہ سورۃ یوسف میں ایک ذکر ہے کہ بادشاہ نے چودہ سال قحط وسرسبزی کے ایک آن میں دیکھ لئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ رویا کا لفظ یہاں نہیں۔یہ ان کی غلطی ہے۔اِنّى رایتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رايتهم في سجدِین (یوسف:۵) انبیاء کے لئے خواب کا اظہارضروری نہیں ہوتا۔حضرت صاحب سے سے میں نے ایک دفعہ اس آیت کے معنے دریافت کئے تو آپ نے فرمایا میں نے جناب الہی میں توجہ کی تو مجھ پر یہی کھلا کہ وہ شخص واقعی مر گیا تھا۔عرض کیا کہ پھر سو سال کے بعد اُٹھنا کیا معنے ؟ فرمایا کہ انبیاء کو مرنے کے بعد ایک حیات دی جاتی ہے۔ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی فرمایا تھا کہ میں چالیس دن کے بعد زندہ کیا جاؤں گا۔پھر عرض کیا کہ وہ آیت کس طرح بنے؟ فرمایا کیا مردہ آیت نہیں ہو سکتے ؟ اللہ تعالیٰ فرعون کی نسبت فرماتا ہے لہن خَلْفَكَ آيَةً (یونس : ۹۳) چونکہ میری طبیعت میں شرم اور ادب بہت تھا اس لئے میں نے یہ نہ پوچھا کہ انظر إلى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَهُ کا کیا مطلب ہوا؟ قاضی امیرحسین صاحب نے بھی ایک معنے کئے ہیں۔وہ امانت کے معنے باستدلال آیت اے اے نبی ! جب تم طلاق دینی چاہو عورتوں کو۔۲؎ میں نے دیکھے گیارہ تارے اور سورج اور چاند وہ میری فرمانبرداری کر رہے ہیں۔۳۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پچھلوں کے لئے تجھے نشانی بنائیں۔(ناشر) ۵ے تو دیکھ اپنے کھانے اور پینے کی چیز کی طرف کہ سری تک نہیں۔