حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 605
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة کی کتاب سے ملتا ہے جو بلا اختلاف یہود کے نزدیک مسلم ہے۔اس میں لکھا ہے دیکھو ۳۷ باب میں خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس وادی میں جو ہڈیوں سے بھر پور تھی مجھے اُتار دیا۔پھر اس نے مجھے کہا کہ تو ان ہڈیوں پر نبوت کر۔اسی نبوت سے (وہ آیت ہوئی) اور ان سے کہہ اے سوکھی ہڈیو ! تم خدا کا کلام سنو! دیکھو تمہارے اندر میں روح داخل کروں گا اور تم جیو گے۔۔۔اور گوشت چڑھاؤں گا۔۔۔تب اس نے مجھے کہا کہ اے آدم زاد! یہ ہڈیاں سارے اسرائیل ہیں۔دیکھ یہ کہتے ہیں کہ ہماری ہڈیاں سوکھ گئیں اس لئے تو نبوت کر کہ دیکھ اے میرے لوگ میں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تمہیں تمہاری قبروں سے باہر نکالوں گا اور اسرائیل کے ملک میں لاؤں گا۔دوم۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِائَةَ عامہ تو سو سال رہا۔اور وہ خواب دیکھنے والا کہتا ہے لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ دن یا اس کا کچھ حصہ۔پھر اس کے قول کی اللہ تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے فانظر إلى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهُ وَانْظُرُ إِلى حِمَارِكَ كه تو اپنی کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ۔ان پر سال نہیں گزرے اور گدھے کو دیکھ لو ویسے ہی کھڑا ہے۔پس یہ دو باتیں سوائے رؤیا کے کہیں جمع نہیں ہو سکتیں۔چنانچہ اس کی مثال سورۃ یوسف میں اُس بادشاہ کا خواب ہے جس نے آؤ بَعْضَ يَوْمٍ میں سات سال کے قحط کا نظارہ دیکھا۔وَ قَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرى سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِبَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعَ عِجَافٌ وَ سَبْعَ سُنْبُلَتٍ خُضْرٍ وَ أَخَرَ يَبِست (يوسف: ۴۴) ( میں سات گائیں موٹی دیکھتا ہوں۔کھاتی ہیں ان کو سات ڈبلی اور سات بالیں سبز اور دوسری سوکھی ) یوسف اس کی تعبیر فرماتے ہیں تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَآبا (یوسف: ۴۸) غرض حز قیل نے نبوت کی کہ یہ بستی سوسال میں پھر آباد ہو گی اور پھر بنی اسرائیل اپنی سرزمین میں آئیں گے۔چنانچہ ستر سال گزرنے پر دانیال نبی کی معرفت بنی اسرائیل کو سمجھایا گیا کہ فارس کے بادشاہوں سے تعلقات قائم کرو۔پھر ان کی مدد سے وہ تیس برس میں آباد ہو گئے۔یہ دوسرا ثبوت ہے اس کا کہ اللہ کی رحمت سے مایوس تشخیذ الاذہان جلدے نمبرے۔جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۳۳،۳۳۲) نہ ہونا چاہیے۔ا اور کہا بادشاہ نے میں دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی انکو کھا رہی ہیں سات گائیں دُبلی اور سات بھٹے ہیں ہرے اور سات ہیں سوکھے۔۲؎ تم کھیتی تو کرو گے سات برس لگاتار۔