حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 567 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 567

حقائق الفرقان ۵۶۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تیسرا اعتراض۔کوئی ندی وہاں نہ تھی جہاں داؤد و جالوت کی لڑائی ہوئی۔ان تینوں اعتراضوں کے جواب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم ٹھر کے معنے آرام و آسائش کرتے ہیں۔پس ندی کے موجود نہ ہونے کا اعتراض ختم ہوا۔دوم یہ کہ یہ باتیں تم نے سموئیل کی کتاب باب سے اسے لی ہیں اسی سموئیل کے باب ۹، ۱۰ میں لکھا ہے که داؤد بربط نوازوں میں نوکر تھا۔پھر لکھا ہے کہ داؤد اپنے بھائی کی روٹی لے کر آیا وہاں ایک عملیقی کے ساتھ جھگڑا دیکھا۔یہ نوجوان تھے بول اُٹھے۔میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں۔اس پر سموئیل نے کہا کہ یہ کون ہے؟ دیکھئے۔پہلے تو اسے بربط نو از بتا یا پھر یہ کہ بادشاہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کون ہے؟ پھر لکھا ہے کہ اس نے کہا جو نامختون سے مقابلہ کرے میں اُسے لڑکی دوں گا اور (پھر) اپنی زرہ نکال کر دی۔اس اختلاف کو دیکھ کر متقین یورپ نے فیصلہ دیا ہے کہ سموئیل کا باب ۱۷ الحاقی ہے۔پس جس کی اصلیت خود ہی مشتبہ ہے اس سے قرآن پر اعتراض صحیح نہیں۔پھر ہم پوچھتے ہیں تمہاری تاریخوں میں طالوت کا لفظ کہاں ہے؟ پس یہ کہنا کہ اس کا نام ساؤل تھا یا نہ تھا فضول ہے کیونکہ قرآن شریف نے ان میں سے کسی کا نام ہی نہیں لیا۔جہاں طالوت کا ذکر ہے وہاں جالوت کا نہیں اور جہاں جالوت کا ہے وہاں طالوت کا نہیں۔پس دونوں کا زمانہ متحد کہاں سے ثابت ہوا۔پھر ہم کہتے ہیں طالوت کے معنے ہیں لمبے قد والا۔بائبل میں بھی لمبے قد والا ہی لکھا ہے۔پس یہ نام نہیں۔ایسا ہی جالوت اس کو کہتے ہیں جو میدان میں جولان کرے۔پس اس طرح کوئی اعتراض نہیں رہتا کیونکہ یہاں کسی کا نام ہے ہی نہیں۔پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ داؤد کا مقابلہ جہاں ہوا وہاں شورق نام ندی ہے۔پرانے جغرافیے جو ہیں ان میں اس کا موقع موجود ہے۔پھر آخری فیصلہ کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ تمام صحیح قرآنوں میں فَهَزَمُوْهُم بِاذْنِ اللہ پر وقف ہے۔پس وہ قصہ الگ ہے اور یہ الگ۔وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمُ بِبَعْضٍ کئی موقع پر میں اس کی تفصیل کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے خود اپنی مرضی سے جہان میں اختلاف رکھا ہے اور اسی پر کارگاہِ عالم کا دارو مدار ہے۔