حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 566
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۲۵۱ - وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ - ترجمہ۔اور وہ جب نکلے جالوت اور اُس کے لشکر سے لڑنے کو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! انڈیل دے ہم پر صبر اور استقلال اور جمادے ہمارے پاؤں اور مددفرما ہماری کافر قوم کے مقابلے میں۔تفسیر۔صبرا۔یہاں صبر کے معنے استقلال کے ہیں۔حدیث میں صبر کی دعا منع ہے کیونکہ جو صبر مانگتا ہے ( گویا وہ۔مرتب ) بلا مانگتا ہے۔ہاں ضرورت کے وقت استقلال کی دعا (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مؤرخه ۶ رمئی ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۳) ممنوع نہیں۔۲۵۲ - فَهَزَمُوهُمْ بِاِذْنِ اللهِ وَ قَتَلَ دَاوِدُ جَالُوتَ وَ اللهُ اللهُ الْمُلْكَ وَ قف الْحِكْمَةَ وَ عَلَمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ۖ وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ تَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلكِنَّ اللهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَلَمِينَ - لا ترجمہ۔پھر اس نیک قوم نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے۔اور مار ڈالا داؤد نے جالوت کو اور دے دی اللہ نے اُس کو سلطنت اور دانائی اور سکھا دیا اس کو جو چاہا اور اگر اللہ ایک کو ایک کے ہاتھ سے دفع نہ کرتا تو ضرور تباہی ہو جاتی ملک میں لیکن اللہ بڑا مہربان ہے لوگوں پر۔تفسیر۔قَتَلَ دَاوُدُ جَالُونَ۔یہ ایک مقام ہے جس پر بعض نادانوں کو تاریخی طور پر اعتراض کرنے کا موقعہ ملا۔پہلا اعتراض یہ ہے کہ جس ندی پر آزمائش ہوئی تھی وہ جدعون کے زمانے کی بات ہے۔جہاں داؤ دو جالوت کی لڑائی کا ذکر ہے وہاں ندی کا ذکر نہیں بلکہ جدعون اور طالوت میں ۱۵۶ سال کا فرق ہے۔دوسرا اعتراض تابوت سکینہ کے متعلق ہے کہ داؤد اور جالوت کی لڑائی سے ہیں سال پہلے عمالیق لوگ صندوق لے گئے تھے۔ان میں مری پڑ گئی تو ان کو وہم ہو گیا کہ ہو نہ ہو اسی صندوق کی نحوست ہے اس لئے انہوں نے اس صندوق کو ایک چھکڑے پر لا دکر بیلوں کو ہانک دیا۔ساؤل ایک شخص تھا۔اس کی زمین پر یہ چھکڑا جا ٹھہرا۔کہتے ہیں یہ میں برس پہلے کی بات ہے۔