حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 525
حقائق الفرقان ۵۲۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ایک۔مال کی خواہش ہے چنانچہ اس کے لئے انبیاء نے یہ قاعدہ بنا یالا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِل (البقرة: ۱۸۹) اس میں ملازم، پیشہ ور وغیرہ سب آگئے۔دوم۔کان، آنکھ، زبان حسن کے بہت مشتاق ہیں۔حسین چیز کو دیکھنا ، اس کی خوشبو کو سونگھنا، اس کی آواز سننا، ان تمام باتوں کی خواہش کا نام شہوت ہے۔شہوت آنکھ سے شروع ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے سورہ نور میں قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ ار کی لَهُم ( النور : ۳۱) اسی طرح مومنات کے لئے حکم ہے۔سوم۔غضب۔اس کے متعلق بھی بڑی تعلیمیں ہیں۔چنانچہ پارہ ۶ کے شروع میں فرماتا ہے۔إِنْ تُبْدُ وَ خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوا قَدِيرًا ( النساء: ۱۵۰) یعنی تم اپنے حال کو نہیں دیکھتے کہ خدا کے مقابلہ میں کیا کیا بغاوتیں کی ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ اس پر گرفت نہیں فرماتا۔وہ قادر ہو کر عفو کرتا ہے پس تم بھی در گذر کیا کرو۔خلاصہ یہ ہوا کہ انسان چین چاہتا ہے اور چین کے حصول کے لئے خواہش کرتا ہے۔مال کی۔شہوت کی غضب کی لیکن جو ان کو ناجائز طریق سے حاصل کرتا ہے یا ان کا بے جا استعمال کرتا ہے وہ پکڑا جاتا ہے۔زانی کو دیکھو کہ وہ جب شہوت کو بے جا طور سے استعمال کرتا ہے تو اسی عضو پر آ تشک و سوزاک سے سزا کھاتا ہے جس سے خدا کے قانون کو توڑا۔اسی طرح چور کا حال ہے کہ وہ مال کے لئے شریعت کی مخالفت کرتا ہے اس لئے کبھی کوئی چور دولتمند نہ دیکھو گے۔ایک چور کسی عورت کا چوڑا اتار کر لے گیا۔عورت نے دیکھ لیا مگر پکڑ نہ سکی۔آخر کئی سالوں کے بعد چوراسی عورت کے دروازے سے گزرا تو اس عورت نے کہا کہ اسے بدبخت میرے ہاتھوں میں تو پھر بھی چوڑا ہی موجود ہے تجھی پر خدا کی پھٹکار پڑی۔اسی ا تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ۔کے ایماندار مردوں سے کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی فرجوں کی حفاظت کیا کریں یہ ان کے واسطے زیادہ پاک ہے۔(ناشر) سے اگر تم نیکی کو ظاہر کرو یا چھپا کر کرو یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو بے شک اللہ بھی بڑا درگزر کرنے والا بڑی طاقت والا ہے۔(ناشر)