حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 526
حقائق الفرقان ۵۲۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة طرح غضب والے جو ارتکاب جرائم کرتے ہیں اس کی سزا پاتے ہیں۔پس خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت جب ملے گی جب تم ا - بأساء- غریبی۔یہ بھی پیدا ہوتی ہے مال کی کمی سے۔۲۔ضرآء۔بیماری۔ماتحت ہے۔زُلْزِلُوا۔دوسرے مقام پر حِينَ الْبَأْس (البقرۃ:۱۷۸) فرمایا ہے۔یہ غضبی قوت کے ان تین امتحانوں میں پورے نہ نکلو گے تو جنت نصیب نہ ہو گی۔اس پر صحابہ نے عرض کیا کہ حضور جب یہ حال ہے کہ مال کو جائز طریقوں سے حاصل کرنا ہے پھر کمسیر یٹ (فوجی اخراجات) کہاں سے آئے گی۔فرمایا جو مال سے میسر ہو خرچ کرو اور صرف کمسیریٹ ہی نہیں بلکہ والدین کو بھی دو اور رشتہ داروں کو بھی۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مؤرخه ۱/۲۲ پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۷) ٢١٦ - يَسْتَلُونَكَ مَا ذَا يُنْفِقُونَ، قُلْ مَا انْفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَ الأَقْرَبِينَ وَالْيَتْلَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ الله بِهِ عَلِيمٌ - ترجمہ۔اے پیغمبر! تجھ سے پوچھتے ہیں کہاں خرچ کریں؟ تم کہہ دو کہ مال جو کچھ تم خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قرابت داروں اور یتیموں اور بے سامانوں اور مسافروں پر (خرچ کرو) اور تم جو کچھ مال خرچ کرو گے تو اللہ اس کو بخوبی جانتا ہے ( یعنی نیک بدلہ دے گا)۔تفسیر۔مَاذَا يُنفِقُونَ۔کہاں دیں۔کتنا خرچ کریں۔دونوں معنی ہیں۔تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۴۲)