حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 524
حقائق الفرقان ۵۲۴ سُورَةُ الْبَقَرَة ۲۱۵ - آم حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيب - b ترجمہ۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) چلے جاؤ گے جنت میں حالانکہ تم کو (ابھی ) پیش نہیں آئی وہ حالت جیسے تم سے پہلے والوں کو پیش آئیں تختیئیں اور تکلیفیں اور فقر و فاقہ اور جھڑ جھڑائے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اُس کے ساتھ والے ایمان دار کب آئے گی اللہ کی مدد؟ سن رکھو! اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔تفسیر۔اب اس آیت کے متعلق مجھے یہ کہنا ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ آرام چاہتا ہے چنانچہ جہاں اس نے روح کے تقاضے بیان کئے ہیں وہاں یہ ذکر بھی کیا ہے کہ وہ آرام کو چاہتی ہے۔جس قدر معالجات ہیں۔علوم ہیں۔اموال خرچ کئے جاتے ہیں ان سب کا منشا یہی ہے کہ آرام حاصل ہو اور آرام کے لئے جامع لفظ ہے جنت۔جنت کہتے ہیں باغ کو۔باغ میں جانے سے غم غلط ہوتا ہے۔نظارۂ قدرت دیکھا جاتا ہے۔پھولوں سے دل کو راحت حاصل ہوتی ہے۔احباب کی ملاقات کا لطف آتا ہے۔پھر طرح طرح کے میوے کھائے جاتے ہیں۔گویا باغ میں آنکھوں کا مزا، کانوں کا مزا، زبان کا مزا، ناک کا مزا سب کچھ شامل ہے۔سائنسدان بھی اِس بات کو مانتے ہیں کہ باغ میں جو ہوا چلتی ہے وہ خاص طور پر راحت بخش ہوتی ہے۔شدت گرمی میں جو آرام باغوں میں ہوتا ہے وہ بھی بے مثل ہے۔الغرض انسان کی فطرت میں آرام کی خواہش ہے۔اللہ تعالیٰ اسے تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ میں ظاہر فرما کر کہتا ہے کہ تم چین کے مقام میں جانا چاہتے ہومگر کیا بغیر کچھ کہئے کہتے؟ ہر گز نہیں۔ہر شخص کو چین کے حصول کے لئے کچھ کام کرنا پڑے گا۔جنت میں جانے کے کچھ اصول ہیں ان میں چند کل انبیاء واولیاء میں مشترک ہیں منجملہ ان کے ایک نفس کی بے انت خواہشوں کو روکنا۔تین قسم کی خواہشیں ہیں۔