حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 516 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 516

حقائق الفرقان ۵۱۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة میں ہڈیوں کی تعداد، پٹھے اور شریانیں ہیں ان میں انسان کا کچھ دخل نہیں۔ایسا ہی کوئی شخص جناب الہی کو گالیاں دے رہا ہے تو کان سننے سے نہیں رہ سکتے۔دوم وہ حصہ انسانی قوی کا جس پر انسان کو قابو ہے۔دونوں کی سہل مثال میرے نزدیک زبان ہے۔اس میں جبر و اختیار کے دونوں رنگ موجود ہیں۔زبان پر میٹھا، نمک، کسیلا رکھ کر پھر زبان سے کہو کہ وہ نمکین کو میٹھا کہے تو یہ ہرگز نہ ہوگا۔ہاں یہی زبان ہے اس سے چاہے کوئی خدا کو ، انبیاء کو گالیاں دے کر جہنم اپنا گھر بنالے اور خواہ ذکر و محامد الہی کر کے جنت الفردوس کا وارث بن جائے نتیجہ اس ساری بات کا یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص پوچھے کیا انسان مجبور ہے تو کہو نہیں۔اور اگر کوئی کہے مختار ہے تو کہو نہیں۔ایک فریق ایسا ہے جو سمجھا ہے کہ انسان مجبور ہے چنانچہ اس قسم کے اشعار کہے ہیں۔درمیان قعر دریا تخته بندم کرده باز مے گوئی کہ دامن ترمکن ہوشیار باش لے میرے نزدیک یہ نام ہی ہے۔انسان کو مجبور پیدا کر کے پھر اسے دوزخ میں ڈالنا ظلم ہے اس واسطے میں نہ انسان کو بالکل مجبور کہتا ہوں نہ بالکل مختار۔قرآن کی صداقت کا ایک یہ نشان بھی ہے کہ اس میں ایسے کچے الفاظ بالکل نہیں اختیار کئے گئے۔چنانچہ کسی آیت قرآنی بلکہ حدیث صحیح، حسن اور ضعیف میں بھی جبر و اختیار کا لفظ نہ پاؤ گے۔پس تم یا درکھو کہ جس حصہ میں انسان کو جناب النبی سے اختیار حاصل ہے اس میں بعض امور کے کرنے کا حکم ہے اور بعض کے نہ کرنے کا۔اب جو منشاء خداوندی کے برخلاف کرے اس کے متعلق باز پرس ہوتی ہے۔انبیاء کی آمد اسی حصہ کی اصلاح کے متعلق ہے اور انہی قومی کی ہدایت پر مبنی ہے جو انسانی مقدرت کے نیچے ہیں۔حضرت یوسف کی وجہ سے بنی اسرائیل کو مصر میں بہت عزت حاصل ہوگئی تھی مگر کوئی قوم جب آسودہ حال ہو جاتی ہے اور ان میں کوئی بڑا ولی پیدا ہو جاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ کچھ مدت بعد اس نسل کے لوگوں میں کا ہلی اور سستی آجاتی ہے۔اس ولی کے جو صاحبزادے ہوتے ہیں وہ بھی چونکہ مریدوں اے تونے میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر مجھے سمندر کی گہرائی میں پھینک دیا ہے اور پھر یہ بھی کہ رہا ہے کہ خبردار تمہارا دامن بھی گیلا نہ ہونے پائے۔(ناشر)