حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 517 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 517

حقائق الفرقان ۵۱۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سے حضور حضور سننے کے عادی ہو جاتے ہیں اس واسطے ان کو بہت سی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔پھر ان کا اثر قوم پر پڑتا ہے اور آخر وہ قوم پانچوں عیب شرعی ہو جاتی ہے چنانچہ اسی قانون کے موافق بنی اسرائیل میں یہ عیوب آ گئے اور پھر ان پر خدا کی طرف سے ذلت اور مسکنت لیس دی گئی۔بیگاروں میں پکڑے جاتے تو وہی ، اینٹیں پکوانے کے کام لئے جاتے تو ان سے ، پھر ایک اور قانونِ الہی ہے کہ جب اصل گناہوں والے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں تو پھر اس نکبت زدہ قوم میں ہی سے خدا کا کوئی پاک بندہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ وہ قوم سمبھلتی ہے۔چنانچہ جب بنی اسرائیل کی نکبت انتہا کو پہنچی اور اصل مجرم ہلاک ہو چکے تو حضرت موسی پیدا ہوئے چنانچہ ان کے ذریعہ بنی اسرائیل کو پھر نجات کی راہیں دکھائی گئیں۔آپ کا منشاء تھا کہ جہاد کے لئے یہ قوم تیار ہو اور ملک شام کی وارث ہو اس لئے آپ نے حکم دیا۔یقومِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَلا تَرْتَدُّ وَا عَلَى أَدْبَارِكُمْ (المائدة: ۲۲) حضرت موسیٰ تو انہیں فاتح بنانا چاہتے تھے مگر انہوں نے بے ادبی کا کلمہ منہ سے نکالا کہ وہ بڑے بہادر ہیں ہم سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، جاتو اور تیرا رب جا کر لڑتے پھرو۔قرآن کے درس میں کوئی بنی اسرائیلی شامل نہیں ہوتا۔پس یہ قصہ کیوں سنایا ؟ اس لئے کہ حضرت نبی کریم نے بھی اپنی قوم کو شرک میں مبتلا دیکھا۔آپ کا بھی یہی منشاء تھا کہ اس ملک سے نکل کر صحابہ مقابلہ کریں اور فاتح بنیں آپ کی قوت قدسیہ کا اثر یہاں تک بڑھا ہوا تھا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم جہاد کو تیار ہو تو انہوں نے جواب دیالًا نَقُولُ كَمَا قَالُوا لِمُوْسٰى اِذْهَبْ انْتَ وَ رَبُّكَ فَقَا تِلَا بَلْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِك ( بخاری - كتاب المغازی باب قول الله تعالى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ۔۔۔۔۔۔یعنی ہم حاضر ہیں آپ جہاں چاہیں لے جائیں۔ايم بَيِّنَةٍ - ایک آیت تو یہ کہ فرعون کی غلامی سے نکالا نَجَّيْنَكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ اے اے قوم! اُس پاک ملک میں داخل ہو جاؤ جس کو اللہ نے تمہارے لئے محفوظ رکھا ہے ( اور لکھ دیا ہے کہ وہ تمہیں کو ملے ) اور تم الٹے پھرو۔۲ے ہم نہیں کہیں گے وہ جو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تو اور تیرا رب جاؤ اور دونوں جنگ کرو۔بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے۔