حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 467
حقائق الفرقان ۴۶۷ سُورَةُ الْبَقَرَة اور مشرکین عرب میں موجود ہے۔اسی طرح پر الہام اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِنَ الْقَادِيَانِ براهین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۴۹۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) میں بھی مرجع کا ذکر نہیں فرمایا گیا کیونکہ اب بھی کوئی فرقہ مذہبی اس قرآن میں ایسا موجود نہیں ہے جو ایک مصلح کامل کا منتظر نہ ہو۔اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی مسیح اور الیاس کے نزول کے منتظر ہیں اور اہل اسلام بھی مہدی معہود اور مسیح موعود کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں اور ہنود بھی کنکی او تار کرشن علیہ السلام کی آمد کے لئے منتظر بیٹھے ہوئے ہیں اور تمام عقلاء اور علماء کی انجمنیں ایک مصلح کامل کو بلا رہی ہیں۔اس لئے مرجع کے ذکر کرنے کی یہاں پر بھی ضرورت نہیں بلکہ ذکر کرنے مرجع میں کلام الہبی عالی مقام بلاغت سے نیچے اتر جاتا ہے۔یہ بھی واضح ہو کہ شریعت اسلام میں تمام اوقات عبادات اور از مند روحانیت کو ایک دور کے ساتھ قائم کیا ہے جس طرح پر جسمانیات اور زمانیات میں بھی یہ دور مشاہدہ ہورہا ہے۔دیکھو فصل بہار کو کہ ہر ایک سال دورہ کرتی رہتی ہے اور نظر کر و تمام شمار اور غلہ جات وغیرہ کو کہ اپنے اپنے وقت پیداوار پر دورہ کرتے رہتے ہیں اور غذائے انسان و حیوانات ہوتے ہیں۔اسی طرح پر نظام روحانی کا انتظام منجانب اللہ فرما یا گیا ہے۔دیکھو ایک ہفتہ ہی کو کہ یوم جمعہ ہمیشہ دورہ کرتارہتا ہے جس کی برکات سے مومنین کا ایمان تازہ ہوتا ہے اور ہفتہ بھر کی خطیبات کا کفارہ ہوجاتا ہے۔پھر دیکھو رمضان شریف اور موسم حج کو اور لیلۃ القدر وغیرہ کو کہ ہر سال ایک مرتبہ ان کا دورہ ہو جاتا ہے۔یہ کیوں؟ اسی لئے کہ مومنین کا ایمان ان کی برکات سے تازہ ہوتا رہے اور تجلیات الہیہ کا ورود جن میں مکالماتِ الہیہ ہیں، مومن متبع پر ہوتا رہے۔اسی طرح پر ہر ایک صدی پر واسطے تجدید دین اسلام کے مجددین کا دورہ ہوتا رہتا ہے گما فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ۔چنانچہ اس چودھویں صدی میں دورہ مسیح موعود کا ہورہا ہے۔یہ مسیح موعود عند اللہ مر بھی ہے اور ایک لحاظ سے شمس بھی ہے۔كَمَا بَت في محله - شمس و قمر کا ا بے شک ہم نے اس کو قریب ہی یعنی قادیان میں اتارا۔(ناشر) ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے۔سے جیسا کہ اپنے محل پر ثابت ہو چکا ہے۔( ناشر )