حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 466 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 466

حقائق الفرقان ۴۶۶ سُورَةُ الْبَقَرَة رمضان شریف کا بھی آ گیا۔پس اب تو ظلمات جسمانیہ اور تکدرات ہیولا نیہ سے پاک وصاف ہوگیا تو عالم ملکوت کی تجلیات بھی اس کو ہونے لگیں اور تاریخوں طاق میں مکالمات الہیہ کا مورد ہو گیا اور یہی حقیقت ہے لیلۃ القدر کی جو آخری عشرہ میں ہوتی ہے اور اس لئے شارع اسلام نے تعیین لیلتہ القدر کی ۲۷ شب مقرر فرما دی کیونکه در صورت ۲۹ دن ہونے شہر رمضان کے وہی ۲۷ شب آخری طاق شب ہو جاتی ہے، جس میں تکمیل روحانی انسان متبع کے حاصل ہوسکتی ہے۔اس لئے یہ شب ۲۷ کی ایک یب مبارک شب ہے جس میں قرآن مجید بھی نازل ہوا۔کما قال الله تعالى - إِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ - لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر - ۲ تا ۴) ايضاً قال تعالى- إِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةٍ مُبرَكَةٍ (الدخان (۴) اور چونکہ یہ شب مبارک اور لیلۃ القدر دونوں رمضان شریف ہی میں ہوتی ہیں لہذا ان تینوں آیتوں میں کوئی اختلاف بھی باقی نہیں رہا۔اور إِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ میں ضمیر مذکر غائب کا مرجع اس لئے مذکور نہیں ہوا ہے کہ جملہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ حضرت خاتم النبیین صلعم کے اشد درجہ منتظر تھے کیونکہ تمام کتب بائبل میں آپ کی بشارات اور صفات حمیدہ موجود تھیں اور اب تک موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام آپ کے منہ میں ڈالا جانا بھی بائیبل میں اب تک پایا جاتا ہے۔اس لئے اس کلام الہی کے نزول کا بھی ان کو سخت انتظار تھا اور نیز مشرکین عرب اپنے باپ دادوں سے سنتے چلے آتے تھے کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے بنی اسمعیل میں ایک نبی عظیم الشان مبعوث ہونے والا ہے۔لہذا جملہ اہل مذاہب اور اہل کتاب کو اس نبی آخرالزمان اور نزول کلام الہی کا انتظار تھا اور ان میں آپ کی بعثت کا ذکر خیر رہتا تھا جیسا کہ سورہ بینہ کی ہماری تفسیر سے واضح ہے۔اس لئے انزلنہ کے مرجع کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی بلکہ مرجع کے ذکر کرنے میں وہ نکتہ حاصل نہ ہوتا تھا جو اس کے عدم ذکر کرنے میں ایک لطیفہ حاصل ہوا اس لئے مرجع ضمیر انزلنه " کا ذکر سابق میں نہیں کیا گیا۔کیونکہ اس کا ذکر تو کل اہل کتاب 12/2699 ل بے شک ہم نے اس کو شب قدر میں اتارا ہے۔اور تو کیا جانے شب قدر کیا ہے۔شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔