حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 468 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 468

حقائق الفرقان ۴۶۸ سُورَةُ الْبَقَرَة دورہ رمضان شریف کے ساتھ بڑی مناسبتیں رکھتا ہے۔یعنی جس طرح پر رمضان شریف میں ایک قسم کی نفس کشی بسبب امساک کے اکل و شرب سے اور جماع سے کی جاتی ہے اسی طرح اس دور قمر میں مومنین متبعین کو کسی قدر صعوبتیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں برداشت کرنی پڑتی ہیں بلکہ بعض متبعین کو ترک اکل وشرب و جماع کا بھی تائید اسلام اور تبلیغ دین حق کے لئے کرنا پڑا ہے کہ اکثر جگہ پر ازواج میں با ہم تفریق واقع ہوگئی اور مخالفین اکثر مخلصین کے اکل و شرب میں بھی حارج ہوئے۔دوسری مناسبت رمضان کو اس دور قمر کے ساتھ یہ ہے کہ جو معارف قرآنی بذریعہ اس شمس و قمر کے دنیا پر منکشف ہوئے وہ پچھلی صدیوں میں نازل نہیں ہوئے تھے اور رمضان کی خصوصیات سے ضروری ہے کہ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيْنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة: ۱۸۶) کانزول ضرور ہو۔یہ تینوں امور نزول قرآن مجید کے لئے اس لئے ضروری ہیں کہ ایک تو ہدایت عام ہوتی ہے تمام آدمیوں کے لئے۔دوسرے اس ہدایت کے دلائل قطعیہ اور شواہد یقینیہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔مصداق اس کا کسوف و خسوف ماہ رمضان ۱۳۱۱ ھ اور دیگر بینات واقع ہوئے۔تیسرے اس ہدایت عامہ کے لئے الفرقان ہونا چاہئے جیسا کہ واقعہ لیکھرام اور چراغ دین کے اس کے شواہد ہیں وغیرہ وغیرہ، جو اس خطبہ میں مفصل بیان نہیں ہو سکتے۔پس جب ان ہر سہ امور کا نزول اس دور شمس و قمر میں ہم کو مشاہد ہورہا ہے تو پھر ہم کیونکر تسلیم نہ کریں کہ زمانہ بعثت اس مسیح موعود کو ساتھ شهر رمضان کے بالضرور ایک مناسبت قوی ہے کما قال الله تعالى - شُهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنت مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ۔پس اگر یہ زمانہ مسیح موعود کا شھر رمضان کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتا تو پھر یہ نزول قرآن یعنی رد شبہات تمام فرق باطلہ کا قرآن مجید سے کیوں ہورہا ہے؟ ہر ایک اہل بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ علت کے وجود سے معلول کا وجود سمجھا جاتا ہے اور معلول کے وجود سے علت کا وجود سمجھ میں آجاتا ہے اور جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بعثت کا ایک اے لوگوں کا رہنما ہے اور سیدھی راہ کے کھلے کھلے نشانات اور حق ناحق کا جس میں فیصلہ ہے۔