حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 465
حقائق الفرقان سُورَةُ الْبَقَرَة رہے۔اگر یہ لوگ فدیہ بھی دیویں تو مَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ پر قیاس کئے جاسکتے ہیں مگر فدیہ بھی اسی شخص پر ہے جو فدیہ دینے کی طاقت رکھتا ہو ورنہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کا روزہ افطار کرنے والے نے خود الٹا ساٹھ مسکینوں کا طعام فدیتاً لے لیا ہے کما فی المشکوۃ اور خود لے قرآن مجید ہی فرماتا ہے کہ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة: ۱۸۲) اور لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷)۔وغیرہ وغيره من الآيات - اس تو جیہ سے وہ تکلفات جو مذکور ہوئے نہیں لازم آتے وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔اب واضح ہو کہ جس قدرا حکام شرع اسلام میں مقرر ہیں ان میں اسرار عجیبہ اور لطائف غریبہ غور کرنے سے معلوم ہو سکتے ہیں۔مثلاً یہاں پر جو شَهُرُ رَمَضَانَ واسطے صیام کے اللہ تعالیٰ کے کلام میں مخصوص فرمایا گیا اس میں ایک عجیب سریہ ہے کہ یہ مہینہ آغاز سنہ ہجری سے نواں (۹) مہینہ ہے۔یعنی۔محرم صفر۔ربیع الاول ربیع الثانی جمادی الاول جمادی الثانی رجب شعبان - رمضان۔اور ظاہر ہے کہ انسان کی تحمیل جسمانی شکم مادر میں نو ماہ میں ہی ہوتی ہے اور عددنو کا فی نفسہ بھی ایک ایسا کامل عدد ہے کہ باقی اعداد اسی کے احاد سے مرکب ہوتے چلے جاتے ہیں، لاغیر۔پس اس میں اشارہ اس امر کی طرف ہوا کہ انسان کی روحانی تکمیل بھی اسی نویں مہینے رمضان ہی میں ہونی چاہئے اور وہ بھی اس تدریج کے ساتھ کہ آغاز شہور ہجری سے ہر ایک ماہ میں ایام بیض وغیرہ کے روزے رکھنے سے بتدریج تصفیہ قلب حاصل ہوتا رہا۔جیسا کہ شیخ نے کہا ہے کہ تامل در آئینه دل کنی صفائی بتدریج حاصل کنی حتی کہ نواں مہینہ رمضان شریف کا آگیا تو اس کے لئے یہ حکم ہوا کہ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُهُ " (البقرة: ۱۸۶)۔یہاں تک کہ مومن متبع کو روزے رکھتے رکھتے آخر عشرہ درو لے اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے سختی نہیں کرنا چاہتا۔(ناشر) ہے دل کے آئینے میں غور وفکر کر۔آہستہ آہستہ صفائی حاصل کر۔سے تم میں سے جو شخص مقیم ہو یا اس مہینے کو پاوے(اس میں حاضر ہو ) تو چاہیے کہ اس کے روزے رکھے۔(ناشر)