حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 464
حقائق الفرقان ۴۶۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بہتر اور افضل کوئی عبادت نہیں اور انوار و مکالمات الہیہ کی تحصیل کے لئے روزہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں۔اور حضرت موسی نے جب کوہ طور پر تئیں بلکہ چالیس روزے رکھے تب ہی ان کو تو رات ملی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غارحرا کے اعتکاف میں روزوں کا رکھنا ثابت ہے جس کے برکات سے نزول قرآن کا شروع ہوا اور خود قرآن مجید بھی اسی طرف ناظر ہے کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ اور مسیح موعود نے بھی چھ ماه یا زیادہ مدت تک روزے رکھے ہیں جن کی برکات سے ہزاروں الہامات کے وہ مورد ہو رہے ہیں۔بدیں وجوہ موجہ قرآن اور اسلام نے جو جامع تمام صداقتوں اور معارف کا ہے دونوں قسم کے روزوں کو واسطے حاصل ہونے مزید تصفیہ قلب کے ثابت و برقرار رکھا۔ہاں دونوں قسموں کے حکم جدا گانہ فرما دیئے گئے۔صیام غیر لازم کا حکم تو یوں فرمایا کہ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَه الآية اور صيام لازم کا حکم یوں ارشاد ہوا کہ فَلْيَصُبُهُ اور وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ الآیة۔آگے رہا لفظ كتب جس کے معنے مفسرین فرض لکھتے ہیں۔اس کی نسبت یہ گزارش ہے کہ کچھ ضروری نہیں کہ اس کے معنی فرضیت ہی کے لئے جاویں بلکہ جو حکم شرعی لازم یا غیر لازم ہو ، اس کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ شرع اسلام میں مکتوب یا لکھا ہوا ہے خواہ وہ حکم لازم ہو یا غیر لازم۔یہ اصطلاح کہ کتب بمعنی فرض کے ہی لیا جاوے اصطلاح علما ہی کی ہے نہ قرآن مجید کی اصطلاح ، کیونکہ لفظ کتاب یا اس کی مشتقات قرآن مجید میں صدہا جگہ آئے ہیں ، تا ہم وہاں لے پر مراد الہی فرضیت نہیں ہے۔کما قال الله تعالی۔وَلَيَكْتُبُ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ - (البقرة : ۲۸۳) أَيْضًا يَكْتُبُونَ الْكِتَبَ بِأَيْدِيهِمْ (البقرة : ۸۱) وَغَيْرُ ذُلِكَ مِنَ الْآيَاتِ الكَثِيرَةِ۔آگے رہا حکم شیخ فانی مرضعہ پیر ضعیف یا جوان نہایت لاغر نحیف وغیرھم کا جن پر روزہ 97 9121 رکھنا نہایت درجہ پر شاق معلوم ہوتا ہے۔سو یہ سب لوگ بایں شرط مشقت حکم مریض میں داخل ہیں کیونکہ تعریف مریض کی ان پر صادق آتی ہے کہ ان کے جملہ قومی کے افعال اپنی حالت اصلی پر باقی نہیں لے اور چاہئے کہ لکھ دے تم میں سے کوئی لکھنے والا انصاف سے۔سے جو کتاب کو تو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں۔اور اس کے علاوہ اور بہت سی آیات ہیں۔