حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 463 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 463

حقائق الفرقان ۴۶۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة قسم کا تخالف آیات مذکورہ کے مفہومات میں لازم آوے اور نہ عدم فرضیت روزوں رمضان کے مفہوم ہو دے کیونکہ عدم فرضیت صیام رمضان کہ ادلہ شرعیہ کے محض خلاف ہے۔اگر کسی توجیہ سے یہ تکلفات رفع ہو جاویں تو البتہ ثلج صدران آیات کے تفقہ میں حاصل ہوسکتا ہے۔اب اس جلسہ خطبہ میں صرف ایک توجیہ بیان کی جاتی ہے۔اگر اہل علم حاضرین جلسہ کے نزدیک یہ پسند آجاوے تو زہے عز و شرف ورنہ وہ خود بعد خطبہ کے بیان فرماویں اور اگر بعد خطبہ کے کسی صاحب نے اہل علم میں سے کوئی تطبیق اور تو جبیہ دیگر بیان نہ فرمائی تو یہی ثابت ہوگا کہ یہ ہی تطبیق ان کو پسند ہے اور وہ تطبیق یہ ہے کہ اسلام میں دو قسم کے روزے ہیں جو کتاب وسنت سے ثابت ہیں۔ایک لا زم اور دوسرے غیر لازم۔چونکہ روزہ جو بہ نسبت دیگر عبادات کے ایک عمدہ عبادت ہے جس سے مومن متبع انوار الہی کو حاصل کر سکتا ہے اور مکالمات النبی کا تجلی گاہ ہو سکتا ہے جیسا کہ کلام نبوت میں وارد ہوا ہے کہ الصَّوْمُ لِي وَأَنا أُجْرَى بِهِ (بخاری _ کتاب الصوم) یعنی بصیغہ مجہول ترجمہ۔روزہ مومن کا خاص میرے ہی لئے ہوتا ہے جس میں ریا وغیرہ کو کچھ دخل نہیں اور اس کی جزا میں خود ہو جاتا ہوں۔یا انا اجزی بہ بصیغہ معروف کہ میں بلا وساطت غیرے خود اس کی جزا دیتا ہوں وغیرہ وغیرہ من الاحادیث الصحیحہ۔یہ احادیث اس امر پر صریح دال ہیں اور ستر اس میں یہی ہے کہ انسان روزے میں فجر سے لے کر شام تک تینوں خواہشوں ، کھانے پینے ، جماع سے رکا رہتا ہے اور پھر اس کے ساتھ اپنے قلب کو ذکر الہی ، تلاوت ، نماز ، درود شریف کے پڑھنے میں مشغول رکھتا ہے تو پھر اس کی روح پر عالم غیب کے انوار کی تجلی اور ملاء اعلیٰ تک اس کی رسائی کیونکر نہ ہو گی۔اور یہ جوا حادیث میں وارد ہوا ہے کہ رمضان شریف میں شیطان زنجیروں میں بند کئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور مہم غیبی آواز دیتا ہے کہ اے طالب نیکی کے ! اس طرف کو آ اور اے بدی کے کرنے والے ! کوتاہی کر۔یہ سب ایسی احادیث اسی امرلطیف کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔پس کوئی شبہ نہیں کہ ظلمات جسمانیہ کے دور کرنے کے لئے روزہ سے