حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 462 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 462

حقائق الفرقان ۴۶۲ سُورَةُ الْبَقَرَة شق دوم۔اور اگر پہلی آیت سے علاوہ رمضان کے دوسرے روزے مراد لئے جاویں مثلاً ایام بیض کے روزے یا ستہ شوال وغیرہ جن کی فضیلت بھی کتب معتبرہ احادیث میں لکھی ہوئی ہے اور علماء وفقہاء نے ان روزوں کی فضیلت میں یہاں تک لکھا ہے کہ جس نے رمضان اور ستہ شوال کے روزے رکھے اس نے گویا سال بھر کے روزے رکھ لئے اور اس کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ ہر ایک نیکی کا ثواب وہ اللہ رحمن و رحیم دس گنا عطا فرماتا ہے۔کما قال الله تعالى - مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا (الانعام : (۱۲۱) یعنی جو شخص ایک نیکی بجالا وے گا تو اس کو اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا۔تو تیس روزوں کا ثواب تین سو روزوں کا ثواب ہوا اور چھ روزوں کا ثواب ساٹھ روزوں کا ثواب ہوا اور سال تمام کے قمری دن بھی تین سو ساٹھ (۳۶۰) ہی ہوتے ہیں۔علی ھذا القیاس اگر ایام بیض کے تین روزے دس ماہ کے لئے جاویں تو بھی تیس روزے ہوتے ہیں جس کے تین سو ہوئے اور پھرستہ شوال بھی لیا جاوے جس کے ساٹھ ہوئے، تو بھی تین سو ساٹھ روزوں کا ثواب حاصل ہو گیا اور صیام فرض رمضان کے اس پر علاوہ رہتے ہیں۔اور صرف دس ماہ ہی کے ایام بیض اس واسطے لئے گئے کہ ایک ماہ رمضان کا علیحدہ رہا اور چونکہ ستہ شوال کا بھی لے لیا گیا ہے لہذا اس حساب میں شوال کے ایام بیض بھی نہیں لئے گئے بلکہ صرف دس ماہ کے ایام بیض لے لئے گئے ہیں۔الحاصل اندریں صورت چونکہ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ (البقرة : ۱۸۴) سے ان کی فرضیت مفہوم ہوتی ہے حالانکہ یہ روزے ایام بیض وغیرہ کے لازم نہیں ہیں۔اس لئے اس شق کی صورت میں مفسرین اس آیت کو دوسری آیت فَلْيَصُهُ اور یا وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ سے منسوخ قرار دیتے ہیں۔مگر ایک کلام کے سلسلہ میں ایسا ناسخ و منسوخ ماننا عظمت شان کلام الہی کے بالکل منافی ہے۔چہ جائیکہ بموجب مسلک ان مفسرین کے جو کسی آیت قرآنی کو منسوح مانتے ہی نہیں۔پھر ایک ایسے کلام کے سلسلہ میں جو متصل ہے ناسخ منسوخ کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔اب خلاصہ کلام یہ ہوا کہ کوئی ایسی توجیہ صرف نظم قرآن مجید سے ہی پیدا کرنی چاہئے جس سے نہ تو کلمہ لا کو محذوف ماننا پڑے، نہ اضمار قبل الذکر لازم آوے، نہ ضمیر مذکر کی مونث کی طرف راجع ہو، نہ ناسخ منسوخ کا ماننا پڑے ، نہ کسی