حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 447
حقائق الفرقان ۴۴۷ سُورَةُ الْبَقَرَة تھے۔ بڑوں کا جو غلام ہوتا اگر وہ قتل ہو جاتا تو اس کے بدلے میں کئی حُر مارے جاتے۔ اس لئے الْحُرُّ بِالْحُر کا قانون مقرر کر کے فرماتا ہے یہ خاص تخفیف ہے تمہارے رب سے اور اس کی رحمت۔ اس سے پہلے ایک معمولی بات پر جنگیں ہو کر ہزاروں کے گشت و خون کی نوبت پہنچ جاتی مگر اب یہ بات نہیں بلکہ صرف ایک کے بدلے میں ایک کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ فَمَنِ اعْتَدی ۔ اگر پھر وہی اپنا رواج چلاؤ گے تو تمہیں ایک دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا ۔ خدا کی طرف سے یا حکام کی طرف سے جو کہ وہ مناسب موقعہ و حال تجویز کریں گے۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۰) ۱۸۰ - وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيُوةٌ يَأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - ترجمہ اور قصاص میں زندگی ہے تمہارے لئے اے عقل والو! تا کہ تم دکھوں سے بچو۔ تفسیر۔ اس قصاص میں تمہاری زندگی ہے وہ اس طرح کہ اب ایسا نہ ہوگا کہ ایک کے بدلے میں ہزاروں کے گشت وخون کی نوبت پہنچے بلکہ حکومت قصاص لے گی اور قاتل و وارثان مقتول بیچ کر کام گے اس طرح آبادی کی تعداد بڑھ جائے گی ۔ ي أولي الألباب - صاحبان عقل کو خصوصیت سے خطاب فرمایا کیونکہ اس راز کو موٹی عقلیں نہیں سمجھ سکتیں ۔ کیونکہ بدلہ لینا ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہے بلکہ شریعت کے بہت سے ایسے کام ہیں جو انسان کی اپنی ذات سے وابستہ ہیں ۔ بہت سے ایسے ہیں جو حکام سے مخصوص ہیں ۔ جن لوگوں نے اس بھید کو نہیں سمجھا انہوں نے نقصان اُٹھایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا أَطِيعُوا اللهَ وَ اطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء : ۲۰) جو لوگ حکام کی پابندی نہیں کرتے وہ خطرے میں ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۰) لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۔ اس رکوع میں تقوی کی بات چلی ہوئی ہے۔ لَيْسَ الْبِرَّ میں تقوی کے اصول بتائے ہیں اب قصاص کے حکم میں فرماتا ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ہے یہ جانوں کے متعلق تقوی کا جو لے اللہ اور اُس کے رسول کا حکم مانو اور اُن کا جو تم میں سے حکومت والے ہوں ۔ (ناشر)