حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 448 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 448

حقائق الفرقان ۴۴۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بیان فرمایا۔اب مال کے متعلق جو تقوی ہے وہ بیان کرتا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴ مؤرخه ۱/۸ پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۱) ۱۸۱ - كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ - ترجمہ۔تم پر لازم کیا جاتا ہے جب سامنے آ موجود ہو تم میں سے کسی کی موت اگر ( وہ مرنے والا ) چھوڑے کچھ مال ( تو چاہیے کہ) کہے میرے ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے (شرعی ) دستور کے موافق۔یہ حق ہے متقیوں پر۔تفسیر - اذا حضر۔حاضر ہونے کی دو صورتیں ہیں ایک شدت بیماری۔دوم یہ کہ موت ہی آ جائے۔پس ایک شق کے لحاظ سے تو یہ معنے ہوئے کہ جب کوئی ایسا بیمار ہو تو وصیت کر دیا کرے اپنے مال کے متعلق۔وصیت کس کے لئے ہو۔لِلْوَالِدَيْنِ۔اپنے ماں باپ کے واسطے۔کیا وصیت ہو؟ ایک تو یہ معنے ہیں کہ اپنے ماں باپ سے کہہ جائے میرے بعد یوں انتظام کرنا۔دوم یہ کہ اپنے ماں باپ کے حق میں وصیت کر جائے اس صورت میں جبکہ وہ شرعی قانون کے لحاظ سے ترکہ کے وارث نہ بن سکیں مثلاً وہ کافر ہوں ، غلام ہوں یا اپنے بیٹے کے قاتل ہوں۔پس ان صورتوں میں وارث اگر ان کے لئے وصیت کر جائے تو جائز ہے یا یہ مطلب کہ ان کو اپنے کاموں کا وصی کر دے۔یہ سب احکام بھی جہاد کی تمہید میں ہیں۔کیونکہ جنگ کا زمانہ تھا اس لئے صحابہ کو فرمایا اپنی وصیتیں کر چھوڑو۔اور اگر حضر کے معنے یہ ہوں کہ موت آ ہی جائے تو پھر یوں معنے ہوں گے کہ لکھی گئی ہے تمہارے لئے وصیت جو والدین اور اقارب کے متعلق ہے وہ بالکل مناسب ہے اور حق ہے متقیوں پر کہ اس کے مطابق عمل درآمد کرو۔وہ وصیت کہاں لکھی ہے؟ دیکھوپ سورۃ نساء کا دوسرا رکوع يُوصِيكُمُ اللهُ (النساء:۱۲) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴ مؤرخه ۸ /اپریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۱)