حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 390 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 390

حقائق الفرقان ۳۹۰ سُورَة البَقَرَة أيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا۔جہاں کہیں تم ہو گے اسی طرف منہ کر لو گے تو پھر گویا تم سب کو اکٹھا کیا۔شاہ عبدالعزیز صاحب نے جو ہمارے شیخ المشائخ ہیں ایک دلچسپ نکتہ لکھا ہے که خداوند کریم نے مکہ معظمہ ہمارا جائے تو جہ بنایا۔کعبہ میں چار مصلی ہیں۔حنفی لوگ کہتے ہیں ( جن کا مصلی شمالی جانب ہے ) کہ ہم اسی طرف اور اسی طرز سے نماز پڑھتے ہیں جس طرف سے رسول کریم نے پڑھی یعنی ہماری پیٹھ بھی اسی طرف رہتی ہے جدھر رسول کریم کی۔شافعی کہتے ہیں کہ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى (البقرة: ۱۲۲) کی تعمیل ہم ہی کر رہے ہیں کیونکہ ہمارا مصلی اس کے قریب ہے۔حنبلی کہتے ہیں ہمارا مصلی سنگ آسود کے قریب ہے۔مالکی اِن سب کی تردید کرتے ہیں مگر تا ہم ان سب کی توجہ تو ایک ہی طرف ہے مَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ میں غالبًا انہی چارمصلوں کی نسبت پیشگوئی تھی۔الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔بعض ملکوں میں جب کسی غیر ملک کے لفظ جاتے ہیں تو ان کے معنے بھی بدل جاتے ہیں چنانچہ یہ حرام کا لفظ ہے یہ ہمارے ملک میں برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے حالانکہ عربی زبان میں حرام بڑی عزت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ایک کنچنی نے مسجد بنوائی ایک ظریف نے اس کی تاریخ نکالی۔بیت الحرام۔یہ بہت بری بات ہے کہ اچھے لفظوں کو برے معنے میں لا یا ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مؤرخه ۲۵ / مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۲۴) جاوے۔وَلِكُلٌ وَجْهَةٌ۔کسی نہ کسی امر کی طرف متوجہ رہتا ہے۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ : پس تم نیکیوں کی توجہ میں پیش دستی کرو۔عَمَّا تَعْمَلُونَ۔مسلمانوں نے یہ کیا کہ کعبہ تو فتح کر لیا مگر پھر چار مصلوں پر تقسیم کر کے جھگڑا ڈال دیا۔تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۴۰) لے اور ابراہیم کے مقام کو تم نماز کی جگہ ٹھہرالو۔(ناشر)