حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 389
حقائق الفرقان ۳۸۹ سُورَة البَقَرَة تفسیر۔وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا - توجہ دوطرح کی ہے ایک یہ کہ کسی طرف کومنہ کرنا۔دوسرے یہ کہ کسی کی پرستش کرنا۔ایک شخص نے اعتراض کیا کہ مسلمان سنگ اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔میں نے کہا۔کیا تم کسی کے بوسہ لینے کو پرستش سمجھتے ہو؟ پھر اس نے کہا کہ تم قبلہ کی طرف منہ جو کرتے ہو۔میں نے کہا کہ تم میری طرف منہ کر کے کھڑے ہو۔کیا یہ پرستش ہے؟ پھر نماز کے تمام ارکانوں کی طرف خیال کرو کعبہ کی طرف منہ نہیں رہتا بلکہ رکوع میں زمین کی طرف ہوتا ہے۔دائیں بائیں بھی منہ ہوتا ہے۔پس کسی کی طرف منہ کرنا اور بات ہے اور پرستش کرنا اور بات۔پھر یہ کہ مکہ معظمہ کی نسبت نہ کوئی خواہش ہے نہ کوئی درخواست مکہ معظمہ سے ہوتی ہے نہ کوئی اس سے التجا کرتے ہیں ہاں حضرت نبی کریم کے روضئہ مقدسہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں لوگ یہ خیال کر سکتے تھے کہ یہ نبی کی پرستش کرتے ہیں۔مگر جو لوگ مکہ کے درمیان ہوتے ہیں ان کی اور خصوصا حنفی مصلی والوں کی تو مدینہ کی طرف پیٹھ ہوتی ہے۔انسان کی ایک روح ہوتی ہے روح کا تو آگا پیچھا دایاں بایاں کچھ نظر نہیں آ سکتا۔پس جو عبادت رُوح سے متعلق ہے اس کے ساتھ جہات کو کوئی تعلق نہیں مگر جسم میں چونکہ جہات ہیں اس لئے اس کے لئے عبادت میں بھی ایک جہت کی ضرورت تھی۔تو جہ الی القبلہ سے یہی مقصود ہے کہ مسلمان اپنی عبادت میں خدا تعالیٰ کے فرمان کی پابندی کر کے پورے موحد اور فرمانبردار ہونے کا ثبوت دیتا ہے کہ میری اپنی کوئی خواہش نہیں (حتی کہ تیرے حضور کھڑا ہونے میں بھی ) پھر یہ کہ مسلمان اِس لئے اس طرف منہ کرتے ہیں کہ حکم مکہ سے صادر ہوا۔اس لئے اسی طرف توجہ کرتے ہیں۔پھر یہ کہ یک جہتی بڑی اچھی چیز ہے۔کوئی کسی طرف کوئی کسی طرف منہ کر لیتا تو یہ بات اچھی نہ ہوتی بلکہ یہ امر افتراق کا موجب ہو جاتا۔عبادت کے لئے ایک نہ ایک جہت ضرور اختیار کرنی پڑتی ہے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم کو چھوڑا ان کو پتھروں اور درختوں کی پرستش کرنی پڑی ہے۔ہندوؤں میں ایک فرقہ ہے جو لنگ پوجا کرتے ہیں دوسرا گروہ جلہری کی پوجا کرتا ہے۔ایک ہندو رئیس نے ایک مندر بنایا اور اس میں تین لاکھ لنگ اور تین لاکھ جلہری کی مورتیں بنا کر رکھیں۔کیسا تعجب ہے۔