حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 387
حقائق الفرقان ۳۸۷ سُورَة البَقَرَة اے گرازین ! ( یہ ایک گاؤں کا نام ہے جو افسوس اور ملامت کے قابل نہیں ) تجھ پر افسوس ہے۔اے بیت صیدا!! ( یہ بھی گاؤں ہے) تجھ پر افسوس۔متی ا باب ۲۱۔اے یروشلم ! اے یروشلم ! ( یہ بیت المقدس ہے ) جو نبیوں کو مارڈالتی ہے۔متی ۲۳ باب ۳۷۔ایسی صد ہا کتب مقدسہ صد ہا جگہ دیکھ لو۔اب اس طرح کے محاورات قرآن کریم سے سنو۔(1) يَايُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ (الطلاق: ۲) اے نبی ! جب تم لوگو! عورتوں کو طلاق دو۔(۲) يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَالْمُنْفِقِينَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (الاحزاب :٢) اے نبی ! خدا سے ڈر اور کفار کی فرمانبرداری اور منافقوں کی اطاعت مت کر۔بے شک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم ( عام لوگوں کو خطاب کرتے ہو اس پر خبر دار ہے۔(۳) وَسُلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَا (الزخرف: ۴۶) پوچھ ان رسولوں سے جو تجھ سے پہلے گزرے۔ان مقامات میں دیکھ لو یا " کے لفظ سے مخاطب کون ہے اور طَلَّقْتُم سے کون؟ اتَّقِ کے لفظ میں مخاطب کون اور تعملُونَ " کے لفظ سے کون معلوم ہوتا ہے؟ مَنْ سے مراد کون ہے اور قبلک کس کا پتہ دیتا ہے؟ پانچواں جواب۔میں نے مانا لا تكونن نہی کا صیغہ ہے اور نہی بھی بمعنی طلب ترک ہے اور یہاں مخاطب بھی سرور کائنات اور فخر موجودات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور مراد بھی وہی ہیں مگر میں کہتا ہوں جب لا تکن نہی کے صیغہ پر نون مشدده تاکید کے لئے آیا اور نون تاکید مشدّد ماضی اور حال پر ہرگز آتا نہیں۔جس فعل پر آتا ہے اس کو استقبالی فعل کر دیتا ہے۔پس لَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُسْتَرِيْنَ کے معنے یہ ہوں گے۔اے محمد تو زمانہ ماضی اور حال میں شک کرنے والا نہیں رہا۔اب آگے زمانہ استقبال میں بھی متر ڈ داور متشکلک نہ رہیو۔گویا یہ الہی دعا ہے جو یقینا قبول ہے یا جس حالت میں تیری جبلت ہی ایسی سہو کتابت ہے تُطع چاہیے۔(ناشر)