حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 386 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 386

حقائق الفرقان ۳۸۶ سُورَةُ الْبَقَرَة استقبال کا صیغہ ہوگا۔اب اس تحقیق پر آیت کے یہ معنے ہوں گے۔یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے ( چونکہ الہی الہام اور دلائل سے یہ حق ثابت ہو گیا) تو تو کبھی شک والوں میں سے نہ ہوگا۔دوسرا جواب۔ہم نے مانا لا تكون نفی نہیں نہی کا صیغہ ہے مگر ہم کہتے ہیں نہی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک طلب ترک فعل۔دوم طلب عدم فعل۔سائل کا اعتراض اس صورت میں ہے کہ یہاں نہی کو بغرض طلب ترک فعل لیا جاوے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ مخاطب فعل شک کو ترک کر دیوے مگر ہم کہتے ہیں یہاں شک معدوم ہے اور نہی کا منشاء یہ ہے کہ جیسے شک معدوم ہے آئندہ بھی معدوم رہے۔تیسرا جواب۔سائل ! یہاں آیت فَلا تَكُونَنَّ میں ایسا کون سا امر ہے جس کے باعث ہم کو خواہ مخواہ ماننا پڑے کہ لا تكونن کے مخاطب ہادی اسلام ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ہم کہہ سکتے ہیں بدلائل مذکورہ سابقہ حضور علیہ السلام کو اپنی رسالت پر یقین تھا اور قرآن کریم میں اختلاف نہیں۔اس لئے ثابت ہو الا تكونَنَّ کا مخاطب کوئی متر د داور شک کرنے والا آدمی ہے نہ حضور علیہ السلام۔چوتھا جواب۔ہم نے مانا اس جملہ لا تكونن کے مخاطب ہمارے پاک ہادی علیہ السلام ہیں مگر عبری اور عربی کا طرز کلام با ہم قریب قریب ہے اور کتب مقدسہ کا غیر محرف حصّہ اور قرآن کریم دونوں ایک ہی متکلم کے کلمات ہیں اور دونوں ایک ہی مخرج سے نکلے ہیں اور دونوں کا محاورہ ہے کہ اعلیٰ مورث کو مخاطب کیا جاتا ہے اور مراد اس مورث کی قوم ہوتی ہے۔کسی کو خطاب کرتے ہیں اور کسی دوسرے کو مقصود بالخطاب رکھتے ہیں۔دیکھو یرمیاہ۔ہائے کہ وہ دن بڑا ہے یہاں تک کہ اس کی مانند کوئی نہیں۔وہ یعقوب کی مصیبت کا وقت ہے۔پر میاه ۳۰ باب ۷ تا ۱۰۔اے میرے بندہ یعقوب ! ہراساں مت ہو۔یرمیاہ ۴۶ باب ۲۸ خداوند کا یہوداہ کے ساتھ بھی ایک جھگڑا ہے اور یعقوب کو جیسے اس کی روشیں ہیں ویسی سزا دے گا۔ہوسیع ۱۲ باب ۲۔دلاوری سے لبالب ہوں کہ یعقوب کو اس کا گناہ اور اسرائیل کو اس کی خطا جتا دوں۔میکاہ ۳ باب ۸ یعقوب کی رونق کو اسرائیل کی رونق کی مانند پھر بحال کرے گا۔نجوم ۲ باب ۲۔