حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 346 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 346

حقائق الفرقان ۳۴۶ سُورَة البَقَرَة اور جب اٹھانے لگا ابراہیم بنیادیں اس گھر کی اور اسمعیل۔اے رب ہمارے قبول کر ہم سے۔تو ہی ہے اصل سنتا جانتا۔اے رب ہمارے اور کر ہم کو حکم بردار اپنا اور ہماری اولاد میں بھی ایک امت حکم بردار اپنی اور بتا ہم کو دستور حج کرنے کے اور ہم کو معاف کر۔تو ہی ہے اصل معاف کرنے والا مہربان۔اے رب ہمارے! اور اٹھا ان میں ایک رسول انہیں میں کا۔پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھاوے ان کو کتاب اور پکی باتیں اور ان کو سنوارے۔تو ہی ہے زبر دست حکم والا۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب۔حصہ دوم صفحہ ۱۹۱، ۱۹۲ حاشیہ) اب ان آیات قرآنی (۱۲۸ تا ۱۳۰ ناقل) کو آیات توریت سے تطبیق دی جاتی ہے۔توریت میں لکھا ہے حضرت حق سبحانہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے آپ کے پلو ٹھے بیٹے حضرت اسمعیل کی نسبت وعدہ فرمایا۔وو میں نے تیری دعا اسمعیل کے حق میں قبول کی۔دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اُس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور اس سے بڑی قوم بناؤں گا۔“ کتب سابقہ کے ناظرین اور الہامی مضامین پر گہری نگاہ کرنے والے اگر انصاف سے دیکھیں تو یہ پیشین گوئی صاف محمد بن عبد اللہ بن اسمعیل بن ابراہیم کے حق میں ہے۔اس بشارت میں کئی امور غور طلب ہیں۔اول۔برکت دوں گا، برومند کروں گا، بہت بڑھاؤں گا“ نہایت انصاف سے دیکھنے کو مجبور کرتے ہیں اور بڑی بلند آواز سے کہتے ہیں کہ اسمعیلی وعدوں کو جسمانی مت کہو۔صرف جسمانی وعدے میں برکت اور فضیلت نہیں بلکہ بالکل نہیں۔وہ تو موت کے گہرے کنوئیں میں رہنے کا باعث ہے، منصفو! کیا اگر ابراہیم کی اولاد بت پرست، رہزن ، چور، جاہل، بدتہذیب، قمار باز، زانی ، مکار، بدکار ہی رہتی تو حضرت اسمعیل کو کوئی عاقل کہہ سکتا کہ تو برو مند ہوا، تجھے برکت ملی، تجھے فضل عطا ہوا،