حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 347 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 347

حقائق الفرقان ۳۴۷ سُورَة البَقَرَة تجھ سے بڑی قوم بنی۔ہر گز نہیں۔ہر گز نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی اولاد میں ایک زبر دست رسول پیدا ہوا جس نے اس متفرق گروہ کو ایک قوم بنایا۔اسی کے وسیلے سے وہ قوم برومند ہوئی اور اسے یہاں تک بڑھایا کہ انمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَن کہہ کر ابد الآباد تک ہر ملک اور ہر جنس کی آئندہ آنے والی نسلوں کو ان کی ترقی کا ضمیمہ بنایا۔فداہ ابی و اقی، صلی اللہ علیہ وسلم دوم۔جو بشارات عہد جدید میں حواریوں اور اناجیل کے منصفوں نے مسیح کی نسبت خیال کر کے مندرج کی ہیں وہ سب کی سب ادنی لگاؤ اور ابہام سے بڑھ کر کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔یہاں نہ صرف لگاؤ ہی لگاؤ بلکہ تصریح و توضیح موجود ہے کہ بنی اسمعیل ( قوم عرب ) فضیلت والے، برکت والے، برومند۔امام قوم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد برکت مہد میں ہوئے۔سوم۔فضیلت اُسی وقت پوری فضیلت ہوتی ہے جب اپنے اقران و امثال پر ہو اور تمام عالم شاہد ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب اور حجاز والوں نے بنی اسرائیل پر کبھی کوئی علوّ حاصل نہیں کیا۔متعصب عیسائی میں عرب کی بشارات پر ہمیشہ اعتراض کرتے رہے ہیں جو یہودیوں کے اُن اعتراضوں سے کہ بشارات مسیح پر انہوں نے کئے ہیں زیادہ زور آور نہیں ہیں چنانچہ اس بشارت پر یہ اعتراض کیا ہے ” اسحاق کی نسبت روحانی وعدہ ہے اور اسمعیل کی نسبت جسمانی اگر چہ اس کا جواب ابھی ہو چکا ہے الا مزید توضیح کے لئے کسی قدر تفصیل کی جاتی ہے۔ہم اسمعیلی اور اسحاقی وعدوں کو بمقابلہ یکدگر تو رات سے جمع کر کے ناظرین با انصاف کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کے نورِ ایمان اور انصاف سے پوچھتے ہیں کہ کس طرح سے وہی وعدہ اسمعیل کے حق میں تو جسمانی اور الحق کے رنگ میں روحانی ہو سکتا ہے اور چونکہ باری تعالیٰ کے وعدے ابراہیم کے ساتھ دو طرح کے ہیں ایک عام طور پر ابراہیم کی اولاد کے لئے اور ایک خاص طور پر اسمعیل اور اسحق کے لئے۔اس لئے قبل از مقابلہ ہم مشتر کہ وعدے بیان کریں گے کیونکہ وہ وعدے جیسے اسحق کے حق میں ہیں ویسے ہی اسمعیل کے حق میں بھی ہیں۔اگر ان سے الحق کو ترجیح ہو سکے تو انہیں۔یقینا مومن بھائی بھائی ہیں۔۲ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔( ناشر )