حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 307 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 307

حقائق الفرقان ۳۰۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة "وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَة (التوبة: ۳۶) کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے یہ آیت تحریم قتال پر دلالت نہیں کرتی بلکہ یہ آیت تو قتال کے مجوز ہے۔البتہ یہ آیت علت کو تسلیم کر کے مانع کا اظہار کرتی ہے۔پس یہ معنے ہوئے کہ اشهر حرم میں قتال بڑی سخت بات ہے لیکن فتنہ اس سے بھی برا ہے پس فتنہ کے مقابلہ میں قتال برا نہ ہوگا۔پانچویں آیت ” وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمُ “ (البقرة: ۲۳۵) الى قوله ” مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ“ الخ (البقرة: ۲۴۱)- مَنْسُوخَةٌ بِأَيَةِ اَرْبَعَةَ اَشْهَرٍ وَعَشْرًا وَالْوَصِيَّةُ مَنْسُوخَةٌ بِالْمِيْرَاتِ وَالسُّكْنى بَاقِيَةً عِنْدَ قَوْمٍ مَنْسُوخَةٌ عِنْدَ آخَرِينَ فوز الکبیر میں ہے کہ جمہور مفسرین اسے منسوخ کہتے ہیں۔پھر کہا وَيُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ يَسْتَحِبُّ اَوْ يَجُوزُ لِلْمَيَّتِ الْوَصِيَّةُ وَلَا يَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ أَن تَسْكُنَ فِي وَصِيَّةٍ وَعَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُذَا التَّوْجِيَهُ ظَاهِرُ مِنَ الْآيَةِ۔میں کہتا ہوں کہ اس ظہور میں کچھ کلام نہیں۔مجاہد اور عطا سے مروی ہے کہ آیتہ منسوخ نہیں اور حسب اس وصية کے سال بھر کامل اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں رہنا چاہے ان کو منع کرنا درست نہیں اور اگر چار مہینے دس دن کے بعد یا وضع حمل کے بعد نکلنا چاہے اور دوسری جگہ چلی جائے تو مختار ہے۔اور یہی مذہب ہے ایک جماعت کا اور پسند کیا اس کو ابن تیمیہ نے۔چھٹی آیت: - "وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ الله (البقرة: ۲۸۵) مَنْسُوخَة بِقَوْلِهِ تَعَالَى لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷)۔صاحب فوز الكبير لے اورلر ومشرکوں سے سب کے سب - وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ۔۔۔الآية۔یہ آیت منسوخ ہے۔آیت أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا سے اور وصیت منسوخ ہے آیت میراث سے (بیوہ کے لئے ایک سال تک مرحوم خاوند کے گھر میں ) رہائش رکھنا ایک گروہ کے نزدیک باقی ہے جبکہ دوسروں کے نزدیک یہ منسوخ ہے۔سے پھر کہا وَيُمكنُ آن يُقال۔یہ کہا جائے ممکن ہے کہ میت کے لئے وصیت کرنا مستحب ہے اور عورت ( بیوہ) کے لئے واجب نہیں کہ وہ وصیت ( کی پوری مدت ) میں رہائش رکھے اور ابن عباس کا یہی موقف ہے اور آیت کریمہ سے یہ تو جیہ ظاہر ہے۔(ناشر) ، اگر چہ تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ اللہ تم سے حساب لے گا۔ھے اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اُس کی برداشت کے موافق۔