حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 306 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 306

حقائق الفرقان ۳۰۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة عَقَبَ الله تَعَالَى الْأَمْرُ بِالصَّيَامِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ كَمَا عَقَبَ الْأَيْتِ رُ الثَّانِيَةِ بِتَكْبِيرَاتِ الْعِيدِ - خلاصہ کلام یہ ہوا کہ کسی نے کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔آیت فمن شھد کے ساتھ اور کسی نے کہا منسوخ نہیں اور لا مقدر ہے۔یادر ہے کبیر میں لکھا ہے (الْوَاسِعُ اِسْمُ لِمَنْ كَانَ قَادِر أَعَلَى الشَّيْء مَعَ الشَّدَّةِ وَالْمُشَقِّةِ )۔پس لا کا مقدر کہنا نہ پڑا۔یا اس کے معنے ہیں جو لوگ طعام دینے کی طاقت رکھتے ہیں فطرانہ میں ایک مسکین کا کھانا دے دیں۔فقیر کہتا ہے۔لا مقدر کرنے کی حاجت اس لئے بھی نہیں کہ باب افعال کا ہمزہ سلب کے واسطے بھی آتا ہے۔دیکھو مفلس کے معنے فلوس والا نہیں بلکہ یہ ہیں جس کے پاس فلوس نہ ہو پس یہاں یطیقون۔الخ کے معنے ہوئے جس میں طاقت نہ ہو روزہ کی وہ روزہ کے بدلے کھانا کھلاوے جیسے بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت اور اس آیت کا منسوخ نہ ہونا روایت کیا ہے بخاری نے عباس سے اور حافظ ابونصر بن مردویہ نے عطاء سے۔66 تیسری آیت: " كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ ، الخ (البقرة: ۱۸۴) مَنْسُوخٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى أحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَابِكُمْ “ (البقرۃ:۱۸۸) اور دلیل میں لکھا ہے کہ موافقت کا مقتضی تھا کہ اہل کتاب کی طرح عورت سے صحبت کرنا اور کھانا نیند کے بعد حرام ہوتا۔فوزالکبیر والے فرماتے ہیں یہ تشبیہ نفس وجوب میں ہے پس آیت منسوخ نہ ہوئی اور سچ ہے تشبیہ میں کل وجوہ کی مساوات نہیں ہوا کرتی نیز وہ حکم قرآن میں موجود نہیں۔چوتھی آیت:- " يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالِ فِيهِ “الخ (البقرة: ۲۱۸) منسوخ ہے لے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صدقۃ الفطر کے بعد روزوں کا حکم دیا جیسا کہ دوسری آیت کے بعد تکبیرات کا حکم بیان کیا۔سے لفظ میں وسعت ہے اس شخص کے لئے جو کسی بات کی قدرت تو رکھتا ہے مگر سخت تکلیف اور مشقت کے ساتھ۔۳۔جس طرح حکم دیا تھا تم سے پہلے والوں کو۔(ناشر) کے حلال کر دیا گیا ہے تم کو روزوں کی راتوں میں تمہاری بیبیوں سے صحبت کرنا۔۵ اے پیغمبر تجھ سے پوچھتے ہیں ادب کے مہینوں میں لڑنے کا حال۔