حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 308
حقائق الفرقان ۳۰۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة فرماتے ہیں یہ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ عام مخصوص البعض ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا کی آیت شریف نے بیان کر دیا کہ مَا فِي أَنفُسِكُمْ سے مراد بے جا کینہ اور نفاق ہے نہ وہ تو ہمات جو دل پر بے اختیار آجاتے ہیں کیونکہ طاقت سے باہر باتوں کا حکم نہیں اور نہ انسان کو اس کی تکلیف بلکہ ماموصول معرفہ ہے۔پس حاجت تخصیص بھی نہیں۔وو ساتویں آیت: ” اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقتِه “ (آل عمران: ۱۰۳) قِيْلَ مَنْسُوْخَةٌ بِقَوْلِهِ فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم التغابن: ۱۷) - وَقِيلَ لَابَلٌ مُحْكَمَةٌ - فوز الکبیر میں ہے حَقَّ " تقاتہ کا حکم شرک اور کفر اور اعتقادی مسائل میں ہے اور مَا اسْتَعَظتُمْ کا حکم اعمال میں ہے مثلاً جو کوئی وضو نہ کر سکے تمیم کرلے۔جو کوئی کھڑا نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ کر پڑھ لے اور یہ توجیہ سیاق ،، آیت سے ظاہر ہے۔آٹھویں آیت : - وَ الَّذِيْنَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَأْتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ (النساء : ۳۴) قَالُوا مَنْسُوخَةٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى " وَ أُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُم أولى بِبَعْضٍ (الانفال: (۷۶) فوز الكبير میں ہے۔آیت کا ظاہر یہ ہے کہ میراث وارثوں کے لئے ہے۔اور احسان وسلوک مولی الموالاۃ کے واسطے۔نسخ کوئی نہیں۔نویس آیت : - "وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ ، النساء: 9) آو۔یہ آیت منسوخ ہے اور کہا گیا منسوخ نہیں لوگوں نے سستی کی اس پر عمل کرنے میں۔ابن عباس نے کہا یہ استحبابی حکم ہے۔سچ ہے۔بھلا اس کا نسخ کرنے والا کون ہے۔دسویں آیت : "وَالَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ " (النساء:۱۲) کہا گیا منسوخ ہے آیت سورہ نور لے اللہ کو بخوبی سپر بناؤ اور اس کی نافرمانی سے ڈرو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔۲؎ تو اللہ ہی کو سپر بناؤ تم سے جہاں تک بن پڑے۔۳۔اور تم نے جس سے عہد واقرار مضبوط کر لیا ہو تو اُن کو اُن کا حصہ دے دو۔ہے اور قرابت دار ایک دوسرے کے حق دار ہیں آپس میں۔(ناشر) ۵ے اور جب تقسیم ( ترکہ ) کے وقت ( دور کے رشتہ دار اور ) یتیم بچے اور مساکین آموجود ہوں۔1 اور مسلمانو ! تمہاری عورتوں میں سے جو عور تیں بدکاری کی مرتکب ہوں۔