حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 292

حقائق الفرقان ۲۹۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہلاک ہو جائے گی۔پس اللہ نے دو فرشتے ہاروت ماروت نازل کئے۔ہرت کہتے ہیں زمین کو مصفا کرنے کو اور مرت زمین کو بالکل چٹیل میدان بنا دینا۔گویا یہ امران فرشتوں کے فرض میں داخل تھا کہ یہ لوگ برباد ہو جا ئیں اور بنی اسرائیل نجات پاکے اپنے ملک میں جائیں۔پس وہ ہاروت ماروت نبیوں کی معرفت ایسی باتیں سکھاتے تھے اور ساتھ ہی یہ ہدایت کرتے تھے کہ ان تجاویز کو یہاں تک مخفی رکھو کہ اپنی بیبیوں کو بھی نہ بتاؤ کیونکہ عورتیں کمزور مزاج کی ہوتی ہیں اور ممکن بلکہ اغلب ہے کہ وہ کسی دوسرے سے کہہ دیں۔پس اس تعلیم کو پوشیدہ رکھنے کے لحاظ سے میاں بی بی میں بھی افتراق ہو جاتا تھا۔یعنے میاں اپنی بی بی کو اس راز سے مطلع نہ کرتا تھا۔اور پھر یہ بات جب پختہ ہو گئی تو مید و فارس کے ذریعہ بابل تباہ ہو گیا اور خدا نے بنی اسرائیل کو بچا لیا مگر جتنا ضرر دشمنوں کو پہنچایا گیا چونکہ اللہ کے اذن سے تھا اسی واسطے وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو مکہ والوں کو بڑا غیظ و غضب پیدا ہوا۔پس انہوں نے یہودیوں سے دوستی گانٹھی اور یہودی وہی پرانا نسخہ استعمال کرنے لگے کہ آؤ کسی بادشاہ سے مل کر اس محمدی سلطنت کا استیصال کریں اسی واسطے ایرانیوں سے توسل پیدا کیا۔یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ایرانیوں کے گورنر بعض عرب کے مضافات میں بھی تھے۔انہوں نے اپنے بعض آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کے لئے بھی بھجوائے مگر کچھ کامیابی نہ ہوئی۔اس کی وجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے تو تم اے یہود یو! خدا کے حکم سے ایسے منصوبوں میں کامیاب ہوئے تھے۔اب تم چونکہ یہ نسخہ اللہ کے رسول کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہو اس لئے ہرگز کامیاب نہ ہو گے۔چنانچہ چند آدمی شاہ فارس کی طرف سے گرفتار کرنے آئے آپ نے ان کو فرمایا میں کل جواب دوں گا۔صبح آپ نے فرمایا کہ جس نے تمہیں میری طرف بھیجا ہے اس کے بیٹے نے اسے قتل کر دیا ہے۔وہ یہ بات سن کر بہت حیران ہوئے۔بات میں بات آگئی ہے ہر چند کہ وہ ایسی عظیم الشان نہیں ہے۔وہ یہ کہ جب دوا پیچی نبی کریم کے حضور آئے تو صبح صبح داڑھیاں منڈوا کر آئے۔آپ نے فرمایا یہ تم کیا کرتے ہو۔ہم اس امر کو