حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 291
حقائق الفرقان ۲۹۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ ـ (المجادلة : ١١،١٠) ایمان والو! ہم جانتے ہیں کہ تم منصو بہ کرتے ہو۔انجمنیں بناتے ہومگر یادر ہے کہ جب کوئی انجمن بناؤ تو گناہ سرکشی اور رسول کی نافرماں برداری کے بارے میں نہ ہو بلکہ نیکی اور تقوای کا مشورہ ہو۔بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا۔پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے مگر آخر خدا نے رحم کیا اور موسیٰ علیہ اسلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی۔یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے اور وہ اپنے تئیں نَحْنُ ابْنَوا اللَّهِ وَ احِباؤُة (المائدة: 19) سمجھنے لگے لیکن جب پھر ان کی حالت تبدیل ہوگئی۔ان میں بہت ہی حرام کاری ، شرک اور بدذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبردست قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلط کیا۔فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أولى بأسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلكَ الدِّيَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا - (بنی اسراءیل : 1) ۷۰ برس وہ اس بلاء میں مبتلا ر ہے۔آخر جب بابل میں دکھوں کا زمانہ بہت ہو گیا اور ان میں سے بہت صلحاء ہو گئے حتی کہ دانیال عزرا ، حز قیل ، ارمیا ایسے برگزیدہ بندگانِ خدا پیدا ہوئے اور انہوں نے جناب الہی میں ہی خشوع خضوع سے دعائیں مانگیں تو ان کو الہام ہوا کہ وہ نسل جس نے گناہ کیا تھا وہ تو ہلاک ہو چکی اب ہم ان کی خبر گیری کرتے ہیں۔اللہ کے کام دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو ایسے کہ ان میں انسان کو مطلق دخل نہیں۔مثلاً اب سردی ہے اور آفتاب ہم سے دور چلا گیا ہے پھر گرمی ہو جائے گی اور آفتاب قریب آ جائے گا۔یہ کام اپنے ہی بندوں کی معرفت کرایا اور ان لوگوں کو سمجھایا کہ یہ بادشاہ اب ہلاک ہونے والا ہے پس تم مید و فارس کے بادشاہوں سے تعلق پیدا کرو کیونکہ عنقریب یہ دکھ دینے والی قوم اور ان کی سلطنت لے ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔۲۔جب آیا ان دو میں سے پہلے فساد کا وعدہ تو ہم نے بھیجے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے تو وہ پھیل گئے شہروں میں اور وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔( ناشر )