حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 254
حقائق الفرقان ۲۵۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة نیک سلوک کرنا اور عام لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی نصیحت کرتے رہنا اور نماز کو ہمیشہ ٹھیک پڑھتے رہنا اور زکوۃ دیا کرنا ، پھر تم نے ان باتوں سے منہ پھیر لیا سوا تھوڑے آدمیوں کے۔تم سب کے سب اقرار سے پھر جانے والے ہو۔تفسیر۔ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔جب عہد لیا ہم نے بنی اسرائیل سے کہ تم خدائے واحد کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنا اور اپنے قریبی رشتہ داروں، یتیموں ، مسکینوں کو بھلی باتیں بتلاؤ اور نیک سلوک کرو اور نماز کو مع پابندی ارکان کے قائم رکھو۔زکوۃ دیتے رہو مگر افسوس ہے کہ تم میں تھوڑے لوگ ایسے تھے جو اپنے عہد پر قائم رہے باقی سب کے سب بدل گئے۔قرآن شریف میں اس قصہ کو بیان کرنے سے ایک تو پیشگوئی کا اظہار کرنا تھا کہ تم ایک زمانہ میں چل کر بد عہد ہو جاؤ گے۔دوسرے مسلمانوں کو تاکید اس امر کی کی گئی کہ دیکھو ایسا نہ ہو کہ کہیں تم بھی یہود جیسی کر تو تیں کرنے لگومگر افسوس کہ مسلمانوں نے سب کچھ بھلا دیا اور وہی روش اختیار کی جس سے ان کو منع کیا گیا تھا۔البدر کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۶۴) حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے چالیس سال کی عمر میں اطلاع دی کہ خدا نے مجھے رسول بنایا۔تیرہ برس آپ مکہ میں رہے۔اس کے بعد جب آپ کی عمر ۵۳ سال کی ہوئی حکم الہی کے مطابق ہجرت کر کے چلے گئے۔مکہ میں آپ کو کئی قسم کی سہولتیں تھیں۔اول تو یہ کہ ایک ہی قسم کے مخالفین سے پالا پڑتا تھا یعنے مشرکوں سے پھر بوجہ اس کے کہ آپ کا خاندان نہایت معزز تھا اور آپ کے قرابت دار بھی وہاں تھے کوئی ایذاء رسانی کی جرات نہ کر سکتا تھا۔آپ ان لوگوں کے رسم و عادات کو بھی سمجھتے تھے۔آپ کے کئی پرانے دوست بھی تھے جو ہر وقت مدد کرتے۔برخلاف اس کے مدینہ میں جب آپ آئے تو بڑی مشکلات پیش آئیں۔پہلی مشکل تو یہ کہ مکہ کی مخالفت بدستور تھی (۲) پھر مدینہ میں بھی مشرکین موجود تھے (۳) ایک منافقوں کا گروہ بھی وہاں پیدا ہو گیا یہ بدذات گروہ بڑا خوفناک ہوتا ہے،