حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 253
حقائق الفرقان ۲۵۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً۔اس پر دعوی کہ ہم کو آگ نہ چھوئے گی۔وہ جھوٹ کہتے ہیں۔ہم جناب الہی کا قاعدہ بتلاتے ہیں بلی مَنْ كَسَبَ سَيْئَةً وَ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ جنہوں نے بدیاں کیں اور ان کو ان کی بدیوں نے گھیر لیا تو وہی دوزخی ہیں اور وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت جولوگ ایمان لاتے اور عمل صالح کرتے ہیں ان کو دنیا میں بھی جنت اور آخرت میں بھی جنت ہے۔الفضل جلد نمبر ۲۴ مورخه ۲۶ نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) اور کہتے ہیں ہم کو آگ نہ لگے گی مگر کئی دن گنتی کے۔تو کہہ! کیا لے چکے ہو اللہ کے یہاں میں رہیں گے۔سے قرار تو البتہ خلاف نہ کرے گا اللہ اپنا اقرار یا جوڑتے ہو اللہ پر جو معلوم نہیں رکھتے۔کیوں نہیں؟ جس نے کما یا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہ نے۔سو وہی ہیں لوگ دوزخ کے ، اُسی فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۶۴ حاشیه ) اللہ تعالیٰ ستار ہے اور جب تک کسی کی بدیاں انتہا تک نہ پہنچ جاویں اور احاطتْ بِه خَطيته (البقرۃ:۸۲) نہ ہوجاوے اور حد سے تجاوز نہ کر جاوے خدا تعالیٰ کی ستاری کام کرتی ہے بعد اس کے پھر سزا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے اس سے پہلے کہ تمہاری بدیاں اور کمزوریاں اپنا اثر کر چکیں اور یہ زہر تمہیں ہلاک کر دے۔اس کی تریاق تو بہ کا فکر کرو۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۴ ء صفحه ۸) اسی لئے فرقے یہود کے خلوت نشین اور جتی ستی جنگلوں میں وحشیانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عیسائی پوپوں کی طرح خدا دا د انعامات سے محروم تھے۔فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۶۴) - وَإِذْ اَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَاءِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَ ذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَنى وَالْمَسْكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسُنَا وَ أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكَوةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمُ الَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُم مُّعْرِضُونَ - ترجمہ۔اور ہمارا بنی اسرائیل سے یہی اقرار تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا اور قرابت دار اور یتیموں اور بے دست و پا لوگوں سے