حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 255

حقائق الفرقان ۲۵۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اندر سے کچھ باہر سے کچھ۔(۴) عیسائی بھی تھے (۵) بنو قینقاع یہودی بڑے شہدے اور او باش تھے (۶) بنو نضیر۔(۷) بنو قریظہ۔پھر ان کے علاوہ مدینہ کے ارد گرد غطفان۔مضر کا گروہ تھا مجھے یہاں ایک نکتہ یاد آ گیا۔ایک شیعہ نے مجھ سے کہا بلغ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَه (المائدة: ۶۸) سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا اخطر ناک کام تھا۔میں نے کہا کہ بیشک۔اتنی قوموں کی مخالفت میں پیغام البی پہنچانا بڑا مشکل تھا یہی وجہ ہے کہ آپ کی تسلی کے واسطے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ۶۸) آیت نازل فرمائی۔مکہ کے لوگ تو ایسے تھے کہ نہ ان کے پاس کتاب نہ انبیاء کے علوم نہ وہ اتنے چالاک۔مگر مدینہ کا دشمن بڑا خطرناک اور چالاک دشمن تھا کیونکہ عیسائی اور یہودی سب پڑھے ہوئے تھے۔ان کا ایک کالج بھی وہاں تھا جسے بیت المدارس کہتے تھے۔پھر ان میں رہبان بھی تھے جو کچھ روحانی طاقتیں بھی رکھتے تھے اور اپنا خاص اثر بھی۔اس واسطے حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تجویز کی کہ سب قوموں کو بلایا اور ان سے کہا کہ تم جانتے ہو میں یہاں آ کر آباد ہو گیا ہوں میری قوم کے لوگ میرے دشمن ہیں۔تم جانتے ہو کہ اس قوم کا رُعب تمام علاقہ عرب پر ہے پس ان کے ساتھ اور قو میں بھی مل کر ہمیں ایذاء پہنچائیں گی۔پس ضرور ہے کہ ہم بیرونی دشمنوں سے بچنے کے لئے اتفاق کریں۔میں اس کے لئے چند شرائط پیش کرتا ہوں جن پر اگر ہمارا تمہارا اتفاق ہو جائے تو کوئی فساد نہ رہے چنانچہ آپ نے ان کے سامنے عہد نامہ کا یہ مسودہ پیش کیا جو انہوں نے مان لیا اور جو اس رکوع میں مفصل مذکور ہے۔اس میں حقوق الہی اور حقوق العباد دونوں آ گئے۔لا تَعْبُدُونَ إِلَّا الله۔یہی آپ کا اصل منشاء تھا جو ان سے منوالیا کہ ہم لوگ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے۔یہودیوں کے لئے اس کا مان لینا کوئی مشکل امر نہ تھا۔بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔یہ عام اخلاقی باتیں ہیں۔ل پہنچا دے جو تیری طرف وحی کی گئی تیرے رب سے۔اگر تونے ایسا نہ کیا توٹو نے اللہ کی رسالت نہ پہنچائی۔اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے۔(ناشر)